اقامت الدین، تفرق فی الدین
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
وما نرسل المرسلين الا مبشرين و منذرين اور نہیں بھیجتے ہیں ہم پیغمبروں کو مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے۔ (الانعام ۴۸) دعوتی جدوجہد کی عملی تفسیر انبیاء کرام کی زندگیاں ہیں۔ ہر نبی نے دعوت دین کے کام کو کامل اور مکمل صورت میں انجام دیا۔ اس لئے اس مہم کی اسی انجام دہی کو "مقصود" کی حیثیت دی جائے گی جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہو۔ اور معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے یہاں جو چیز مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ پہنچا دینا ہے نہ کہ "پورے کے پورے دین کو عملاً رائج و نافذ کر دینا"۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دعوتی مشن کا اصل مقصود یہ ہے کہ مدعو تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے نہ کہ اس کو قائم کرنا اور قائم رکھنا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا تعلق اہلیت سے ہے نہ کہ فرض سے۔ یعنی ایسا نہیں کہ مسلمانوں کا یہ لازمی فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ سیاسی تحریک چلا کر حکومت قائم کریں۔ بلکہ درست بات یہ ہے کہ اللہ جب کسی گروہ کے اندر حکومت کی اہلیت پاتا ہے تو وہ اس کے حق میں ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ اس کو حکومت واقدار کا منصب حاصل ہو جائے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، یہ اہلیت بنیادی طور پر دو ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: یا داؤد إنا جعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى (ص ۲۶) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کے لئے دو لازمی صفات مطلوب ہیں کہ وہ ذاتی خواہشات اور تعصبات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ اور یہ کہ وہ ہر حال میں حق اور عدل پر فیصلہ کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ زمین کے سیاسی اقتدار پر فائز ہونے کی یہ لازمی شرط ہے۔ جو لوگ اپنے اندر یہ دونوں شرطیں پیدا کر لیں وہ اپنے آپ حکومت واقتدار کے مستحق ہو جائیں گے۔ ان دونوں شرطوں کے بغیر کسی بھی گروہ کو حکومت ملنے والی نہیں، اور اگر مل جائے تو وہ اس کے پاس باقی رہنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader