Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نزدیک غیر اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک اہم قرار پائی۔ مذکورہ مفسر اقیمو الدین کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں: ”انبیاء علیہم السلام کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں۔ اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو اس سے آگے بڑھ کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے۔ تاکہ اس کے مطابق عمل درآمد ہونے لگے اور ہو تا رہے۔ اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔“ (صفحہ ۴۸۸) قرآن میں تمام انبیاء کے بارے میں صراحتہً یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ صرف تبلیغ (پہنچادینے) پر مامور تھے۔ قوموں کو پوری طرح باخبر کر دینے کے بعد ذاتی ذمہ داری کی حد تک ان کا کام ختم ہو جاتا تھا۔ ”قائم کرنا اور قائم رکھنا“ تمام تر مدعو کے اپنے رد عمل پر منحصر ہے۔ اس کو انبیاء کی ذمہ داری کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں نبیوں کے مشن کو ”قائم (نافذ) کرنے اور قائم (نافذ) رکھنے“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں پہنچا دینے کو ان کا فرضی منصبی بتایا گیا ہے۔ مثلاً: فهل على الرسل الا البلاغ المبين (النحل ۳۵) پس رسولوں پر ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page