اسلام اکیسویں صدی میں
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
اندیش اقدامات کئے گئے جو واضح طور پر اس حکم اسلام کی خلاف ورزی تھے مثلاً ملک و مال کے لئے طاقتور قوموں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑنا، مسلم حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ جہاد کرنا۔ توہین اسلام کے نام پر اس کے مرتکبین کے خلاف قتل کے فتوے صادر کرنا، وغیرہ۔ اس قسم کی مختلف کارروائیاں جدید انسان کے لئے تشدد (violence) کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ اور تشدد آج کے انسان کے نزدیک عام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ چونکہ یہ واقعات جدید میڈیا کے زمانہ میں ہو رہے تھے ، وہ فور آپرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تمام دنیا میں پھیل گئے ۔ نتیجہ اپنی بدترین صورت میں وہی نکلا جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی اسلام کی بدنامی ، چنانچہ اس کے بعد یہ ہوا کہ دنیا بھر کے لوگ اسلام کو برا بھلا کہنے لگے۔ تمام لوگوں کی نظر میں اسلام ایک ایسا مذہب بن گیا جو نفرت اور تشدد کی تعلیم دیتا تھا، اور اس بنا پر وہ ان کے لئے قابل قبول نہ تھا۔ کسی عمل کو شروع کرنے کے سلسلہ میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ بظاہر درست ہے یا وہ اپنے ایک جائز حق کے لئے اٹھنا ہے۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ دیکھنا چاہئے کہ حالات موجودہ (given situation) میں اس کی طرف اقدام کرنا کس قسم کا نتیجہ بر آمد کرے گا، اگر یہ یقین ہو کہ وہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچائے گا تو اس کے لئے اقدام کرنا چاہئے۔ بے نتیجہ اقدام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ سرے سے کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے ۔ اسلام انسانی فطرت کا دین ہے۔ وہ ہر آدمی کے دل کی آواز ہے۔ اسلام اپنی امتیازی صفات کی بنا پر اس قابل ہے کہ ہر آدمی اس کو قبول کرے ، وہ ہر آدمی کے لئے اس کی داخلی طلب کا جواب بن جائے، پچھلی صدیوں میں اسلام کو جو عمومی قبولیت حاصل ہوئی وہ اسی حقیقت کا ایک تاریخی ثبوت ہے۔ آج بھی یہ تاریخ دوبارہ ظہور میں آسکتی ہے، بشرطیکہ اسلام کے اوپر سے بدنامی کا مصنوعی پردہ ہٹا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader