تمهید
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
تصور قائم کیا کہ اسلامی مدرسے انگریز مخالف تحریک کے فکری مرکز ہیں۔ چنانچہ وہ مدارس کے دشمن ہو گئے۔ انہوں نے طرح طرح سے مدارس پر روک لگانے کی کوشش کی۔ مثلاً انہوں نے مدارس کی جاگیریں اور اوقاف ضبط کر کے ان کے ذرائع کو مسدود کر دیا۔ بہت سے علماء کو گرفتار کر لیا، وغیرہ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں اس ملک کے مدارس بند ہو گئے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے سیاسی قبضہ کے بعد ایک عرصہ تک مسلم رہنما یہ سوچتے رہے کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکالو۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں دوبارہ کسی دینی کام کے مواقع نکلیں گے۔ ۱۸۵۷ء کا مسلح اقدام اسی طرز فکر کا نتیجہ تھا جو اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس تجربہ کے بعد علماء نے محسوس کیا کہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ عملی طور پر غیر مفید ہے۔ اب واحد قابل عمل صورت یہ ہے کہ جنگ اور ٹکراؤ کو چھوڑ کر پر امن عمل کے میدان میں کوئی تعمیری کام شروع کیا جائے۔ اسلام کی روشنی میں انہیں نظر آیا کہ یہ کام صرف علم اور تعلیم کا کام ہے۔ چنانچہ علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ انگریزوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر و قوم کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ساری طاقت صرف کریں۔ اس نئے ذہن کے تحت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پورے برصغیر ہند میں مدارس کی تحریک پھیل گئی۔ داخلی اور خارجی حالات اس کے موافق ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ تحریک مدارس بڑھتے بڑھتے اب تحریک انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ میں اپنی ابتدائی عمر ہی سے علماء اور تحریک مدارس سے بہت قریب رہا ہوں۔ میرے والد کا انتقال ۱۹۲۹ء میں بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لئے میرے عم زاد بھائی مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم، اے، ایل ایل بی ہی گویا میرے خاندانی سر پرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ علماء کے بہت عقیدت مند تھے۔ انھوں نے مشہور عالم اور بزرگ مولانا حسین احمد مدنی کی تعریف میں ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک شعر یہ تھا: وارث انبیاء حسین احمد کہ بدیں مستشار مو تمن است

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader