تمهید
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
تقسیم ہند سے پہلے کے دور میں دو قومی نظریہ کا ہنگامہ اٹھا۔ مولا نا حسین احمد مدنی نے اس کا جواب دیتے ہوئے ۱۹۳۷ میں کہا کہ ” فی زمانہ قو میں اوطان سے بنتی ہیں“۔ اس کے رد میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور فارسی قطعہ لکھا جس کا پہلا شعر یہ تھا: عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ ز دیوبند حسین احمد این چہ بو العجبی است اس وقت اقبال احمد سہیل ایڈوکیٹ نے فارسی نظم کی صورت میں اس کا مدلل جواب دیا جس کے دو شعر یہ ہیں: بہ دیو بند گرا، گر نجات می طلبی کہ دیفس مسلح شور و دانش تو صبی است بگیر راه حسین احمد ار خدا خواهی که وارث است نبی را و هم ز آل نبی است برادر بزرگ مولا نا اقبال احمد سہیل مرحوم سے مجھے زندگی کی پہلی سوچ ملی۔ چنانچہ نو جوانی کی عمر ہی میں علماء اور تحریک مدارس سے میرا رشتہ جڑ چکا تھا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔ میری تعلیم مدرسہ ہی میں ہوئی۔ مدارس سے وابستہ افراد سے مسلسل میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ میں بار بار مدارس کے اجتماعات اور پروگراموں میں شریک ہوتا رہا، وغیرہ۔ مگر باضابطہ طور پر میں نے ابھی تک مدارس کے بارے میں نہیں لکھا تھا۔ اس موضوع پر میری متفرق تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں مگر ابھی تک اس موضوع پر میں نے مستقل کتاب تیار نہیں کی تھی۔ مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے علماء اکثر مجھ سے یہ کہتے تھے کہ آپ مدارس کے بارے میں ایک کتاب یا مفصل مقالہ لکھیں۔ مگر اب تک میں یہ کام نہیں کر سکا تھا۔ آخر کار مئی ۲۰۰۰ میں ایسے اسباب پیدا ہوئے جس کے نتیجہ میں زیر نظر مقالہ تیار ہوا جو اس کتاب میں شامل ہے۔ تنظیم ابناء قدیم دار العلوم دیوبند کی طرف سے مجھے ایک دعوت نامہ مورخہ ۹ مئی ۲۰۰۰ موصول ہوا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی میں ۲۰ - ۲۲ مئی ۲۰۰۰ کو " الامام محمد قاسم النانوتوی سیمینار"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader