تحریک مدارس کا آغاز
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے کھڑے نہ ہوتے اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود اس کو مسلسل جاری نہ رکھتے تو یہ منصوبہ صرف ایک نظری منصوبہ بن کر رہ جاتا وہ کبھی تکمیل کے مرحلہ تک نہ پہنچتا۔ یہ علماء قناعت کی بوریوں پر بیٹھ کر ملت کے بچوں کو دین کی تعلیم دیتے تھے، اور معاشرہ کا حال یہ تھا کہ وہ عزت دینے کے بجائے انھیں حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک مشہور مسلم شاعر کے ان دو شعروں سے ہوتا ہے: گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلاں تمام خواهد شد گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا اله الا الله اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء اسلام کو کن دل خراش حالات میں اپنا یہ تعلیمی کام انجام دینا پڑا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بر صغیر ہند میں تعلیمی منصوبہ کو مختلف مصلحتوں کی بنا پر فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کے اصول پر چلایا گیا تھا۔ اس اصول نے اہل مدرسہ کے کام کو مزید مشکل بنا دیا۔ مدارس کے ملک گیر اور انتہائی وسیع نظام کو فری ایجوکیشن کے اصول پر چلانا ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ جب کہ علماء کا یہ فیصلہ بھی تھا کہ اس کو حکومت کے تعاون کے بغیر آزادانہ طور پر چلانا ہے۔ اس انتہائی مشکل منصوبہ کو علماء اسلام نے اس طرح ممکن بنایا کہ اس کا سارا بوجھ خود اپنے اوپر لے لیا۔ علماء نے توکل اور قناعت اور کفایت شعاری کو اختیار کر کے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اللہ کے یہ بندے دنیا کے نفع اور نقصان سے بے نیاز ہو کر تعلیم و تدریس کے اس خشک کام میں مصروف رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دور جدید میں فری ایجوکیشن کے اس وسیع منصوبہ کو کامیابی کے ساتھ چلانے کا یہ ایک انوکھا تجربہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال اتنے بڑے پیمانہ پر شاید کسی اور انسانی معاشرہ میں نہیں ملے گی۔ اب اہل مدرسہ کے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ ماضی کی قربانیوں کا صلہ اب علماء کے موجودہ گروہ کو یہ مل رہا ہے کہ آج ان کی خدمات کا عام طور پر اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ اسی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader