تحریک مدارس کا آغاز
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتدائی مدرسہ کا قیام عمل میں لائے۔ مگر کوئی بھی ایک عالم اپنی محدود عمر میں یہ نہیں کر سکتا کہ وہ ایک پورے خطۂ ارض میں مدارس کا جال بچھا دے اور نسل در نسل ایک پوری امت کو تعلیم یافتہ بناتا رہے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ مسلسل ایسے معاون علماء اٹھیں جو اس منصوبہ کو آگے بڑھائیں۔ جو اس کو عملی صورت دینے کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرتے رہیں۔ پچھلے تقریباً ڈیڑھ سو سال کے اندر ملک کے ہزاروں علماء نے ایثار و قربانی کا یہی عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو آج ہم جانتے ہیں اور بہت سے لوگ وہ ہیں جو وفات پا کر اپنے رب کے پاس چلے گئے اور اب انھیں کوئی نہیں جانتا۔ مگر ان میں سے ہر ایک کی قربانیاں یکساں طور پر عظیم ہیں۔ ان میں سے کسی کا مشہور ہونا اور کسی کا مشہور نہ ہونا صرف ایک اضافی چیز ہے نہ کہ کوئی حقیقی چیز۔ ان علماء کے لئے تعلیم کے اس منصوبہ میں شرکت کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ گویا ملت کو زندہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو منادینا تھا۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس میں سادہ زندگی گزار کر مر جاتا تھا۔ کم آمدنی پر اپنے آپ کو ساری عمر کے لئے راضی کر لینا تھا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات کسی مشاہرہ یا معاوضہ کے بغیر ساری عمر ایک ادارہ کی خدمت انجام دینا تھا۔ یہ ایک ایسے کام میں ساری زندگی گزار دینا تھا جس کی بابت پیشگی طور پر معلوم تھا کہ اس میں کوئی دنیوی عزت ملنے والی نہیں۔ مزید یہ کہ یہ ایک ایسا پر خطر کام تھا جس میں اپنے اہل و عیال کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر کے قوم کے مستقبل کی تعمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینا تھا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ اس تعلیمی منصوبہ کو عوامی چندہ کے ذریعہ چلانا تھا۔ اور چندہ کے بارے میں مولانا محمد علی جوہر (وفات ۱۹۳۱) نے درست طور پر کہا تھا کہ چندہ مانگنا اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں بندہ بناتا ہے۔ مدرسہ کو چلانے کے لئے یہ سب سے بڑی قربانی تھی جو علماء کو دینی پڑی۔ مگر انھوں نے اللہ کی خاطر ان تمام چیزوں کو برداشت کیا اور اس مشکل ترین تعلیمی مہم کو جاری رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں علماء اگر ایک کے بعد ایک اس تعلیمی مہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader