شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع نہ ہو سکے گا۔ اس قسم کا ذہن کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد شروع کر دے گا۔ ایک کے بعد ایک آپ مختلف رکاوٹوں سے لڑتے رہیں گے۔ آپ کی یہ متشددانہ جد و جہد کبھی ختم نہ ہوگی۔ کیوں کہ اللہ نے اس دنیا میں انسان کو مختلف قسم کی رکاوٹوں اور مشکلات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (البلد (۴) اللہ کی مشیت یہی ہے کہ یہ دنیا کبھی ان رکاوٹوں سے خالی نہ ہو۔ ایسی حالت میں اس دنیا میں ٹکراؤ کا طریقہ صرف ایک بے نتیجہ عمل کا نام ہے، وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا نام نہیں۔ پھر اس دنیا میں عمل کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کیا جائے اور پر امن عمل کے ذریعہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔ قرآن کی شہادت کے مطابق، اس دنیا میں عسر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود رہتا ہے۔ (الانشراح ۵) قرآن کی اس آیت میں عسر سے مراد مسائل (problems) ہیں، اور یسر سے مراد مواقع (opportunities) ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق، یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے (مع العسر یو جد اليسر، ابن کثیر)۔ ایسی حالت میں عمل کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسائل و مشکلات کو نظر انداز کیا جائے اور جو مواقع موجود ہیں ان کو غیر نزاعی انداز میں استعمال کیا جائے۔ مدارس دینیہ کی تحریک اسی حکیمانہ اصول کی ایک عملی مثال ہے۔ انیسویں صدی میں جو علماء اس تحریک کو لے کر اٹھے ان کی ایک سوچ یہ ہو سکتی تھی کہ پہلے موجودہ عصر کو ختم کرو۔ یعنی برطانی حکمرانوں کو ہلاک کرو۔ انگریزی نظام تعلیم کے ڈھانچہ کو تباہ کرو، وغیرہ۔ اس کے بعد ہی ہمارے لئے وہ وقت آسکتا ہے جب کہ ہم اپنی پسند کا تعلیمی نظام اس ملک میں قائم کریں۔ اگر ہمارے علماء کی یہ سوچ ہوتی تو ان کی یہ تحریک شروع ہو کر چند سال کے بعد ہی ختم ہو جاتی۔ اس کا کوئی مثبت نتیجہ ملت مسلمہ کو نہ ملتا، جیسا کہ اس قسم کی بہت سی متشددانہ تحریکوں کا کوئی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ مگر علماء کو اللہ تعالیٰ نے یہ بصیرت (vision) دی کہ وہ دونوں طریقوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader