شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
کے فرق کو سمجھیں ۔ چنانچہ انھوں نے تخریب غیر کے بے فائدہ کام کو چھوڑ کر تعمیر خویش کے مفید میدان میں اپنی ساری طاقت لگادی ۔ اس کا نتیجہ اتنا کامیاب نکلا کہ یہ تحریک مذکورہ حدیث کی ایک عملی مثال بن گئی ۔ حدیث مداومت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ رہنے والا عمل ، اگر چہ وہ کم ہو۔ اور آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو ایسے عمل کا پابند بناؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو : عن عائشة رضى الله عنها قالت: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي الاعمال أحب الى الله؟ قال : أدومها وإن قل. وقال: اكلفوا من الاعمال ما تطيقون. (صحيح البخاري، كتاب الرقاق، باب القصد و المداومة على العمل) اس حدیث کا انطباق عام طور پر اذکار اور عبادات جیسے اعمال پر کیا جاتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ﷺ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں ایک عام اصول حیات بتایا ہے ۔ اس کا ایک جزء بلاشبہ ذکر و عبادت ہے ، مگر زندگی کے بقیہ شعبوں سے بھی اس کا تعلق اتناہی ہے جتنا کہ ذکر و عبادات سے ۔ ایسا عمل جو قابل مداومت ہو ، وہ اللہ کو زیادہ پسند ہے ، یہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی بھی عمل کا کوئی بڑا اور گہرا نتیجہ صرف اس وقت نکلتا ہے جب کہ اس کو لمبی مدت تک جاری رکھا جائے ۔ نتیجہ اور لمبا عمل دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ چونکہ اللہ کے نزدیک قدر افزائی کے قابل کام صرف وہی ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ وقتی قسم کی بے نتیجہ ہنگامہ آرائی اللہ کو پسند نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نزدیک وہی عمل قابل قدر ہے جس میں مداومت کی صفت پائی جائے ۔ علماء کی تحریک تعلیم ایک مثبت اور غیر متشددانہ تحریک تھی ۔ یہی وجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader