معاش کا مسئلہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
معاش کا مسئلہ معاش مومن کی زندگی کا مقصد نہیں، اس کی زندگی کی ضرورت ہے۔ مقصد کے درجہ میں مومن کے سامنے آخرت ہوتی ہے اور ضرورت کے درجہ میں دنیا۔ معاش کے سلسلے میں غیر مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ "زیادہ سے زیادہ حاصل کرو"، اس کے برعکس مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ "جو کچھ حاصل کرو جائز طریقہ سے حاصل کرو"، غیر مومن کے لئے معاش اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل کے لئے ہوتی ہے اور مومن کے لئے خود کفیل زندگی کے لئے۔ غیر مومن دنیا میں جیتا ہے اور دنیا ہی میں اپنی پوری قیمت حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ مگر مومن آخرت میں جیتا ہے اور آخرت میں لینا چاہتا ہے جو کچھ لینا چاہتا ہے۔ دنیا اس کے لئے عمر کی مدت پوری کرنے کی جگہ ہوتی ہے اور آخرت اس کے لئے اپنی تمناؤں کو پانے کی جگہ۔ معاش ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ کوئی شخص معاش کی جدوجہد سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مگر اسلام اس کو ضرورت کے درجہ میں رکھتا ہے نہ کہ مقصد کے درجہ میں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاش کا حصول بذاتِ خود آدمی کا مطلوب و مقصود نہ بن جائے۔ معاشی سرگرمیوں کے درمیان بھی اس کا دل اللہ میں اٹکا ہوا ہو، اس وقت بھی اللہ ہی اس کی یادوں کا سرمایہ بنا ہوا ہو۔ غیر مومن کے پاس دولت آتی ہے تو وہ اس سے اپنے معیار زندگی کو بڑھاتا ہے۔ مومن کے پاس دولت آتی ہے تو وہ ضرورت کے بقدر اس میں سے لے کر بقیہ کو خدا کے کام میں دے دیتا ہے۔ غیر مومن کے پاس دولت کا مصرف یہ ہے کہ وہ اپنی دنیا کے مستقبل کو بنائے اور مومن کے پاس دولت کا مصرف یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی آخرت کی تعمیر میں خرچ کرے۔ معاش کا حصول ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ مگر مومن جائز طریقہ سے حاصل کرتا ہے اور جو کچھ ملتا ہے اس پر قناعت کرتا ہے۔ مگر غیر مومن بے قید طور پر حاصل کرتا ہے اور کبھی حرص سے خالی نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader