Urdu book · دینی تعلیم

تعلیم

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلیم علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک علم وہ ہے جو قرآن و حدیث کی صورت میں مرتب ہو کر ہمارے پاس موجود ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جس کو انسان اپنی تلاش اور محنت سے بناتا ہے۔ پہلا علم آدمی کو اس کے خدا کی پہچان کراتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد جب آدمی آخرت کی مستقل دنیا میں پہنچے گا تو وہاں اس کو کس قسم کے معاملات سے سابقہ پیش آئے گا اور ان معاملات کے اعتبار سے اس کو اپنی موجودہ زندگی میں کس قسم کی تیاری کرنا چاہئے۔ دوسرا علم یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں ہمارے جو مادی اور معاشی مسائل ہیں ان کو کس طرح حل کیا جائے ۔ مسلمان کو یہ دونوں علم سیکھنا ہیں ۔ اس کو علم دین بھی جاننا چاہئے اور علم دنیا بھی ۔ البتہ دونوں کا درجہ الگ الگ ہے۔ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے ۔ اور دوسرے علوم کو سیکھنا مسلمان کی دنیوی ضرورت ۔ قرآن و حدیث کی باتوں کو جانے بغیر کوئی شخص صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ وہ اس سے باخبر نہیں ہو سکتا کہ آخرت کی کامیابی کے لئے اس کو موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے۔ مگر دنیوی علوم کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ وہ دنیا میں پیش آنے والے مادی معاملات میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ مثلاً کھیتیوں سے اچھی فصل کس طرح اگائی جائے ، کارخانوں سے ضروریات زندگی کے سامان کس طرح بنائے جائیں ۔ شہروں کی تعمیر میں کن قواعد کا لحاظ کیا جائے ، وغیرہ ۔ قرآن و حدیث کا علم آدمی کو آخرت کی ابدی زندگی کی تعمیر کی راہ بتاتا ہے اور دوسرے علوم دنیا کی موجودہ زندگی کی تعمیر کی راہوں سے باخبر کرتے ہیں ۔ مختلف قسم کے علوم کو سیکھنا مسلمان کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیر مسلمان کے لئے ۔ البتہ مسلمان مقصد اور ضرورت میں فرق کرتا ہے ۔ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے میں اس کا جذبہ دوسرا ہوتا ہے اور دوسرے دنیوی علوم کو حاصل کرنے میں دوسرا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page