ڈائری
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جنوری ۱۹۸۳ عام طور پر لوگ مضمون اس طرح لکھتے ہیں کہ ایک موضوع (مثلاً اسلام کا معاشی نظام مقرر کر کے اس کے مطابق لکھنا شروع کر دیا۔ میرا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ میری تحریریں میرے مطالعہ اور غور و فکر کا ضمنی حاصل (by-product) ہوتی ہیں۔ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا عجیب معاملہ ہے۔ میرے دماغ پر مضامین کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ میرے تقریباً تمام مضامین آمد ہوتے ہیں نہ کہ آور د۔ کبھی مطالعہ کرتے ہوئے کوئی مضمون ذہن میں آجاتا ہے۔ کبھی کوئی چیز دیکھتا ہوں یا کسی چیز کے بارہ میں سوچتا ہوں تو اس دوران میں دماغ کسی تصور کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور ایک مضمون کا خاکہ دماغ میں بن جاتا ہے۔ اسی طرح کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو گفتگو کے دوران کوئی ایسی بات سامنے آجاتی ہے جس میں سبق اور نصیحت کا پہلو ہو۔ اس طرح جو مضامین ذہن میں وارد ہوتے ہیں وہ کبھی بڑے ہوتے ہیں اور کبھی چھوٹے، بڑے مضامین اکثر قلم بند ہو کر رسالہ یا کسی کتاب میں شامل ہو جاتے ہیں۔ مگر دوسرے مضامین یوں ہی غیر استعمال شدہ رہ جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے خیالات جو روزانہ دماغ میں آتے ہیں ان کو ڈائری کی صورت میں لکھ لیا کروں۔ کسی سے گفتگو کرتے ہوئے کوئی بات سامنے آئے۔ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے کوئی چیز اسٹرائک کرے یا دماغ کسی تصور کی طرف منتقل ہو تو اس قسم کی باتوں کو روز انہ لکھ لیا کروں۔ اس طرح ایک ذخیرہ جمع ہو جائے گا، اور آئندہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ان کو استعمال کر سکے۔ و توفیقی الا بالله ۔ ۲ جنوری ۱۹۸۳ اودھ کے نواب آصف الدولہ کی حکومت ۱۷۷۵ء میں قائم ہوئی ۔ انھوں نے لکھنؤ کو اپنی راجدھانی بنایا ۔ اس خاندان کے آخری حکمران واجد علی شاہ تھے۔ واجد علی شاہ اپنی رنگین مزاجی کے لئے مشہور ہیں۔ ان کا دربار شاعروں اور مسخروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ وہ دنیا سے بے خبر اپنے اس فرضی ماحول میں بے خود پڑے رہتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader