Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۸۵۶ میں اودھ پر قبضہ کر کے اس کو برطانی سلطنت میں شامل کر لیا۔ کرنل ہیلی کی قیادت میں جب انگریزی فوج لکھنؤ کے قریب پہنچ گئی اور خبر رساں ونے اس کی خبر نواب واجد علی شاہ کے دربار میں پہنچائی تو کہا جاتا ہے کہ دربار کے مسخروں نے تالیاں بجا بجا کر کہنا شروع کیا : ’’تالیاں بجاؤ موٹے بھاگ جائیں گے‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے بھی تقریباً یہی کردار ادا کیا ہے۔ جب مسلمانوں کے اوپر غیر اقوام کا غلبہ ہو گیا تو انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اصل صورت حال کو نبید گی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ہر ایک بس شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کے جوہر دکھانے لگا۔ گویا کہ یہ زبان حال وہ کہہ رہے تھے: لفظ بازی کرو اور تمہارے سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ ۲ جنوری ۱۹۸۳ قال رجل لعمر بن الخطاب رضی اللہ عنه : ان فلاناً رجل صدق . فقال عمر ، هل سافرت معه او استمنته . قال لا . فقال اذن لا تعلمده فلا علم لك به ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ فلاں شخص بہت سچا آدمی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے یا کیا تم نے اس کو کسی معاملہ میں امین بنایا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا پھر تم اس کی تعریف نہ کرو کیوں کہ تم کو اس کے بارہ میں کوئی علم نہیں۔ حضرت عمر کے اس قول کے مطابق آدمی کی سچائی کا معیار وضو اور نماز جیسے اعمال نہیں ہیں۔ وضو اور نماز بلا شبہ اہم ہیں مگر وہ کسی کی سچائی کا براہ راست ثبوت نہیں۔ سچائی کا براہ راست ثبوت یہ ہے کہ عملی تجربات میں آدمی پورا اترے۔ جب آدمی کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے، جب اس کو کوئی امانت سونپی جاتی ہے، اس وقت اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ فی الواقع کیسا ہے۔ آخرت وہ دنیا ہے جہاں صرف امر حق میں قیمت ہو ، امر غیر حق جہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page