آغازِ کلام
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
۶۲ کروڑ ہندوستانی عوام کے بے تاج بادشاہ سید عبد اللہ بخاری یہ پوسٹر دیواروں پر سے تو اگلے دن ہی ختم ہوگئے. مگر میری فائل میں ایک پوسٹر اب بھی پھٹی ہوئی حالت میں موجود ہے۔ اب حالیہ الیکشن (نومبر ۱۹۸۹ء) میں دوبارہ مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے کانگریس سے بگڑے ہوئے تھے۔ دوبارہ سید عبد اللہ بخاری نے ان کی ہم نوائی کرتے ہوئے کانگریس مخالف تقریریں کیں۔ مسلمانوں نے بھی کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ کانگریس ہارگئی۔ اب دہلی کے اخبار اردو مورچہ (۲۸ دسمبر ۱۹۸۹ء) نے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس کی سرخی یہ ہے: آزادی وطن کے بعد پہلی سچی قیادت شاہی امام سید عبداللہ بخاری یہ سب میرے نزدیک الفاظ سے کھیلنا ہے۔ ایک ہزار بار بھی کانگریس ہارے تو اس سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ مسلمانوں کا فائدہ صرف اپنی تعمیر کے ذریعہ ہوگا نہ کہ دوسروں کی تخریب کے ذریعہ۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ پانچ جنیہ (دہلی، آر ایس ایس والوں کا ہندی اخبار ہے۔ اس نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں اس کے کالم میں ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں مستقل لکھا کروں۔ اس سلسلہ میں کئی آرٹیکل چھپ چکے ہیں۔ اخبار کے ٹیلی فون اور پانچ جنیہ کے پڑھنے والوں کے خطوط سے اندازہ ہوا کہ اس سلسلہ کو بہت پسند کیا جارہا ہے۔ پانچ جنیہ کے دفتر سے ایک بینک چیک ملا۔ وہ ہر مطبوعہ آرٹیکل کا معقول معاوضہ دینا چاہتے ہیں۔ مگر میں نے چیک واپس کر دیا۔ میں نے کہا کہ میں مضامین دینے کا سلسلہ جاری رکھوں گا، مگر اس کے معاوضہ میں کوئی رقم قبول نہیں کروں گا۔ مسلم رہنماؤں میں یہ فکر بہت عام ہے کہ ہندوؤں میں اپنی بات پہنچانے کے لئے ہندی اور انگریزی میں اخبار یا رسالہ نکالا جائے ۔ پچھلے ۵۰ سال میں اس اعلان کے ساتھ درجنوں اخبار اور رسالے ہندی اور انگریزی زبان میں نکالے گئے ہیں، اور سب کے سب ناکام رہے ہیں۔ زیادہ قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اچھے لکھنے والے لوگ ہندی اور انگریزی میں مضامین اور خطوط لکھیں اور ان کو ہندوؤں کے جاری کردہ پرچوں میں چھپوائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader