Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

3 بجے شام کا وقت مقرر ہوا۔ اس کے مطابق ان کے سنٹر واقع ڈیفنس کالونی (نئی دہلی) میں میری ملاقات ہوئی۔ میں وہاں پہنچا تو سید شہاب الدین صاحب پہلے سے وہاں موجود تھے۔ منی سوشل کار بابری مسجد - رام جنم بھومی جھگڑے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں آج انہوں نے چند لوگوں کو ابتدائی گفتگو کے لئے بلایا تھا۔ شہاب الدین صاحب وکیلانہ انداز میں اپنا دعوی پیش کر رہے تھے۔ اس کے مقابلہ میں منی سوشل کار نرم اور دھیمے انداز میں کبھی کبھی بولتے تھے۔ جب شہاب الدین صاحب چلے گئے تو منی سوشل کار نے کہا کہ میں اس معاملے میں پڑ کر اس کو حل کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک کانفرنس بلانا چاہتا ہوں۔ مگر جب سے میں نے اپنے اس ارادہ کا ذکر کیا ہے، میرے پاس کئی مسلمانوں کے ٹیلی فون آچکے ہیں کہ اگر وحید الدین خاں کو اس میٹنگ میں شریک کیا گیا تو وہ اس میں نہیں آئیں گے۔ منی سوشل کار نے مجھ سے کہا کہ آپ کو میں اس ملک کے لئے ایک لائٹ سمجھتا ہوں۔ آئندہ پورا ایڈیشن آپ سے روشنی لے گا۔ منی سوشل کمار سے حسب ذیل چار بار میری ملاقاتیں ہوئی ہیں: فروری ۱۹۶۵ء ورلڈ فیلو شپ آف ریلیجنس دہلی نومبر ۱۹۸۵ء انٹرنیشنل ریلیجنس اسمبلی نیویارک مارچ ۱۹۸۷ء وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس نئی دہلی دسمبر ۱۹۸۹ء اچاریہ منی سوشل کمار آشرم نئی دہلی ۳۰ دسمبر ۱۹۸۹ء سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے زمانہ میں جو ایر جنسی لگی، اس سے ہندو اور مسلمان دونوں حکومت سے سخت ناراض تھے۔ اس کے بعد ۱۹۷۷ میں الکشن ہوا تو دونوں کانگریس کے خلاف ووٹ دینے پر تلے ہوئے تھے۔ اس وقت دہلی کے 'شاہی امام' سید عبد اللہ بخاری نے مسلمانوں کی آواز میں آواز ملا کر تقریر میں کیں کہ کانگریس کو ہٹاؤ۔ لوگوں نے کانگریس کے خلاف ووٹ دیا اور کانگریس پارٹی الکشن میں ہار گئی۔ اس کے بعد پرانی دہلی کی بوسیدہ دیواروں پر اس مضمون کا پوسٹر لگایا گیا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page