Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جنوری ۱۹۹۰ میں نے اپنی زندگی کا پہلا مضمون غالباً ۱۹۳۰ میں لکھا تھا۔ اس وقت میں مدرسۃ الاصلاح (اعظم گڑھ) میں عربی کا طالب علم تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا : جوش عمل ۔ اس کے بعد سے میں تقریباً ہر روز کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہوں۔ ۱۹۹۰ میں پہنچ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے لگ بھگ پچاس سال لکھنے یا لکھنے کی مشق میں گزارے ہیں۔ کیا چیز ہے جو کسی آدمی کو لکھنے والا یا صاحب قلم بناتی ہے، اگر مجھ سے یہ سوال کیا جائے تو میں کہوں گا کہ اس کی پہلی لازمی شرط مطالعہ ہے۔ آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اچھا لکھنے والا بنے گا۔ تحریر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے علمی تحریر، دوسری ہے تخلیقی تحریر۔ علمی تحریر کے لئے صرف مطالعہ کافی ہے۔ مگر تخلیقی تحریر کو وجود میں لانے کے لئے مطالعہ کے ساتھ گہرا تجربہ بھی لازماً ضروری ہے۔ خاص طور پر وہ سنگین تجربات جو آدمی کے دل و دماغ کو ہلا دیں، جو اس کی شخصیت کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو بیدار کر دیں۔ زلزلہ خیز تجربات سے گزرے بغیر حقیقی معنوں میں کسی تخلیقی تحریر کو وجود میں لانا ناممکن نہیں۔ تاہم تجربات سے سیکھنے کے لئے شعور کی بلندی ضروری ہے۔ کثرت مطالعہ سے آدمی کا شعور بلند ہوتا ہے۔ اور جس آدمی کا شعور بلند ہو چکا ہو، وہی تجربات سے کوئی بڑا سبق لے سکتا ہے۔ اور اس کو تخلیقی تحریر میں منتقل کر سکتا ہے۔ ۲ جنوری ۱۹۹۰ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۲۵ دسمبر ۱۹۸۹) میں محمد ظفیر صاحب کے حوالے سے یہ روایت شائع ہوئی ہے کہ ۳ جون ۱۹۴۷ کے اعلان منصوبہ تقسیم برصغیر کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ والے بزرگ مسلم لیگی لیڈر سید بدر الدجیٰ کے توسط سے قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کی اور پوچھا کہ جو اور جس طرح کا پاکستان آپ نے قبول کیا ہے ، اس سے ہندوستان کے ساتھ مسلمان بھی تین حصوں میں بٹ جائیں گے۔ قائد اعظم نے فرمایا کہ اس وقت میں نے ایک قلعہ مسلمانوں کو لے دیا ہے۔ جہاں وہ اپنی قوتیں مجتمع کریں اور اپنی اہلیتوں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page