آغازِ کلام
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
کام لے کر اپنے شاندار ماضی کا احیا کر لیں ۔ مجھے جو کام کرنا تھا وہ میں نے کر دیا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بھی ایک مضمون میں پاکستان کو اسلام کا آہنی قلعہ بتایا تھا۔ مگر واقعات نے بتا دیا کہ مسٹر جناح اور ان کے ہم خیال لوگوں کا نظریہ سراسر غلط تھا۔ نصف صدی گزرنے پر بھی پاکستان اسلام کا قلعہ نہ بن سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کبھی اسلام کا قلعہ نہیں بنتا۔ میرے نزدیک پاکستان بنوانا مسلمانوں کے لئے ایک جرم کا درجہ رکھتا ہے۔ مسلمانوں پر لازم تھا کہ پہلے ہندوستان کے ہندوؤں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں، اور اس کو تمام ضروری دعوتی آداب کے ساتھ تکمیل کے مرحلہ تک پہنچائیں۔ دعوتی عمل کی انجام دہی کے بعد حسب حالات انھیں اگلا اقدام تجویز کرنا تھا۔ دعوتی مرحلہ سے گزرے بغیر پاکستان کا مطالبہ ہرگز درست نہ تھا۔ پاکستان کا نام مملکت خدا داد رکھنے سے وہ اسلامی نہیں بن سکتا۔ ۲ جنوری ۱۹۹۰ قومی آواز (یکم جنوری ۱۹۹۰) کے صفہ اول کی سرخی تھی: "وادی کشمیر میں آج سے تمام سینما گھر بند" خبر میں بتایا گیا تھا کہ کشمیر کی ایک انتہا پسند تنظیم اللہ ٹائگرز نے تمام سینما گھروں کے مالکوں کو دھمکی دی ہے کہ یکم جنوری سے وہ اپنے سینما گھروں میں فلم دکھانا مکمل طور پر بند کر دیں۔ ورنہ ان کے سینما ہال کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ اسی طرح سیکڑوں ویڈیو لائبریریوں کو بھی اپنا کاروبار بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وادی میں شراب کی دکانوں کو بھی ان تنظیموں نے بند کروادہ یا ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی پردہ کے بغیر گھر سے نہ نکلیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کئی بار بم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس لئے لوگوں نے خوف کے تحت ان حکموں پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ نادان اسلام پسند اس سے خوش ہوں۔ مگر میں اس کو بالکل لغو سمجھتا ہوں۔ بم کی طاقت سے کبھی سماج میں کوئی انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔ اس کا از منہ ثبوت مشرق یورپ کے کمیونسٹ ممالک (رومانیہ، ایسٹ جرمنی، چیکوسلوواکیا، ہنگری، پولینڈ، وغیرہ) ہیں ۔ تقریبا نصف صدی تک یہاں حکومتی طاقت کے زور پر کمیونسٹ سماج بنانے کی کوشش کی گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader