آغازِ کلام
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
آغازِ کلام ڈائری، اپنے عام مفہوم میں، کسی آدمی کے ذاتی مشاہدات اور تجربات کا روز نامچہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ڈائری کو تاریخی یا سوانحی اعتبار سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈائری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آدمی بے تکلف انداز میں بہت سی ایسی باتیں لکھ دیتا ہے جن کو وہ کتاب میں لکھنا پسند نہیں کرتا۔ ڈائری لکھنے کا طریقہ بہت پرانا ہے۔ مثلاً رومیوں کے یہاں اس کا رواج پایا جاتا تھا۔ تاہم پہلے یہ تھا کہ ڈائری اور یادداشتوں (memoirs) میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ قرون وسطی کے آخریں دونوں کو الگ الگ انداز سے مرتب کیا جانے لگا۔ پریس کے دور نے ڈائری کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انگلستان میں پہلا قابلِ ذکر ڈائری نگار وھائٹ لاک (Bulstrode Whitelocke) ہے جس کا زمانہ ۱۶۰۵ء - ۱۶۷۵ء تھا۔ فرانس کا ابتدائی ڈائری نگار (Marquis de Dangeau) ہے جس کا زمانہ ۱۶۲۰ء - ۱۷۳۸ء تھا۔ تاہم دورِ جدید میں جس کی ڈائری کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی وہ سموئيل (Sameuel Pepys) ہے۔ اس نے یکم جنوری ۱۶۶۰ء سے اپنی ڈائری لکھنا شروع کیا جو کہ ۳۱ مئی ۱۶۶۹ء تک جاری رہی۔ اسی طرح جذباتی تحریر کے اعتبار سے ڈبلن کے مسٹر سویفٹ (Jonathan Swift) کی ڈائری بہت مشہور ہے۔ وہ ۱۶۶۷ء اور ۱۷۴۵ء کے درمیان لکھی گئی۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں کی ڈائریوں نے شہرت حاصل کی۔ مثلاً فینی برنی (Fanny Burney) جیمس باسوئیل (James Boswell) سر والٹر اسکاٹ (Sir Walter Scott) رابنس (Henry Crabb Robinson) اور اسی طرح گوئٹے، شیلر، ورڈس ورتھ، کولرج ، وغیرہ۔ بیسویں صدی میں ڈائری لکھنے کا عام رواج ہو گیا۔ تعلیم یافتہ دنیا کا تقریباً ہر قابلِ ذکر آدمی اپنی ڈائری لکھنے لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ قابلِ تقلید عادت اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader