آغازِ کلام
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
اھلِ علم کے لئے بھی اور عام لوگوں کے لئے بھی (524/III) راقم الحروف کو ڈائری لکھنے کا خیال بہت عرصہ سے تھا۔ اور میں کچھ لکھتا بھی رہتا تھا۔ تاہم باقاعدہ صورت میں ڈائری کا اہتمام میں نے یکم جنوری 1983 سے شروع کیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی بات یا کوئی نہ کوئی احساس یا تجربہ ہر روز قلم بند کرتا رہا ہوں۔ اس طرح میری ڈائریوں کا ایک وسیع ذخیرہ اکٹھا ہو گیا ہے۔ ان ڈائریوں کو دو دو سال کے مجموعہ کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ میری یہ ڈائریلیاں معروف انداز کی ڈائریوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ یہ ایک طرح کا ذاتی ریکارڈ ہے جس میں اس قسم کے اندر اندراجات بھی ہیں جو عام طور پر ڈائری سے متعلق سمجھے جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ چیزیں بھی ہیں جن کو خاطر کہا جا سکتا ہے۔ میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتابوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ اس کا دوسرا ، نسبتاً غیر منظم حصہ، ڈائریوں کے صفحات میں اکٹھا ہوتا رہا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں "یری حقیقت" میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کر لی۔ اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزو بن گئیں۔ ڈائری کا لفظ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ کسی شخص کی روزانہ زندگی کا ریکارڈ ہے۔ حالانکہ نہ ایسا ہے اور نہ ایسا ہونا ممکن ہے، ایک انسان کی زندگی اتنی زیادہ گہری اور وسیع ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی مجموعہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ کسی شخص کی ڈائری کو پڑھ کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اس کی زندگی کو پڑھ لیا۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے کیا ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو الفاظ کے کسی بھی مجموعہ کی پکڑ میں نہیں آتی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ایک کتاب لکھے جس کا نام ہو "میری زندگی ، اے سے زیڈ تک" تب بھی وہ اس کی زندگی کی ادھوری کہانی ہوگی نہ کہ مکمل کہانی۔ وحید الدین 29 مئی 1996

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader