Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جنوری ۱۹۸۹ کشمیر کے دو صاحبان سے ملاقات ہوئی ۔ دونوں تبلیغی تھے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ ان کو ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ایک ایسی مسجد میں جائیں جہاں مخالفین تبلیغ کا غلبہ ہواور وہ آپ کو مسجد سے نکال دیں تو آپ ان کی شکایت نہیں کرتے، بلکہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ انھوں نے پُر فخر طور پر کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ جو آپ مسلمانوں کے حق میں عملاً اختیار کئے ہوئے ہیں یہی آپ کو ہندوؤں کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ یعنی ان کی زیادتیوں کے باوجود صبر کرنا اور ان کے حق میں دعا کرنا۔ میں نے کہا کہ یہ در اصل داعیانہ اخلاق ہے۔ آپ لوگ مسلمانوں کو اپنا مدعو سمجھتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ آپ داعیانہ اخلاق برتتے ہیں۔ مگر ہندوؤں کو آپ اپنا مدعو نہیں سمجھتے، اس لئے آپ ان کے ساتھ داعیانہ اخلاق بھی نہیں برت پاتے۔ ۲ جنوری ۱۹۸۹ امریکہ میں دس دن رہ کر آج صبح فجر سے پہلے واپس دہلی پہنچا۔ ایئر پورٹ سے پری پیڈ ٹیکسی (prepaid taxi) لے کر گھر آیا۔ اس کا کرایہ ایک سو ایک روپیہ تھا۔ گھر پہنچ کر ٹیکسی والے نے کہا کہ ۲۰ روپیہ اور دیجئے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسا۔ اس نے کہا کہ نائٹ سروس کا۔ میں نے کہا کہ اچھا اندر آؤ۔ میں ابھی ایئرپورٹ ٹیلی فون کر کے پوچھتا ہوں۔ اگر وہ لوگ کہیں گے کہ ۲۰ روپیہ اور دینا ہے تو ضرور میں دے دوں گا۔ جب میں نے یہ کہا تو ٹیکسی ڈرائیور کرایہ کی چٹ دیکھتے ہوئے بولا : اچھا اس میں نائٹ سروس کا پیسہ شامل ہے : یہ کہہ کر روانہ ہوگیا۔ امریکہ میں ہر چیز سسٹمز کے مطابق ہے۔ انڈ یا میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انڈیا کی زمین پر اترنے کے بعد یہ پہلا نا خوشگوار تجربہ تھا جو مجھے پیش آیا۔ مولانا اسرار الحق صاحب (ناظم جمعیۃ علماء ہند)، اور مسعود حسن صدیقی صاحب (چیئر مین جمعیۃ ٹرسٹ سوسائٹی، تشریف لائے۔ جمعیۃ بلڈنگ (دہلی) میں میرے پاس کرایہ پر دو کمرے ہیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page