آغازِ کلام
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی بابت انھوں نے گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ آپ اس کو کسی اور کو دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کمروں کو لینے کی خواہش ظاہر کی، مگر میں نے انکار کر دیا۔ پھر میں نے کہا کہ وہ ہماری اپنی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہمارا چھپائی وغیرہ کا سارا کام پرانی دہلی سے ہوتا ہے۔ اور ان کمروں کو ہم اپنے سب آفس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دونوں صاحبان نے کہا کہ جب آپ ان کمروں کو خود اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ آپ انھیں اپنے پاس رکھیں۔ آپ کے اپنے پاس رہنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ انھیں کسی اور کو دینے والے ہوتے تو ہم خود ان کو لینا پسند کرتے۔ پوری گفتگو بہت اچھی فضا میں ہوئی۔ جاتے ہوئے میں نے دونوں صاحبان کو تعمیر کی طرف کا ایک ایک نسخہ بطور ہدیہ پیش کیا۔ ۴ جنوری ۱۹۸۹ قومی آواز (۴ جنوری ۱۹۸۹) میں جناب ریاض الرحمن شیروانی (حبیب منزل، علی گڑھ) کا مسئلہ اردو زبان کے مسئلہ پر شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: "حصول آزادی سے قبل ڈاکٹر راجندر پرشاد اور مولوی عبدالحق کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس میں طے پایا تھا کہ آزاد ہندوستان کی قومی زبان ہندوستانی ہوگی جو دیوناگری اور فارسی لپیوں میں لکھی جائے گی۔ جب حصول آزادی کے بعد یہ مسئلہ دستور ساز اسمبلی کی اس کمیٹی کے سامنے آیا جو اس غرض سے تشکیل دی گئی تھی تو اردو والے جن میں پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد شامل تھے، یہی چاہتے تھے کہ اس فارمولے پر عمل کیا جائے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ تقسیم ہند نے صورت حال میں تبدیلی کر دی ہے تو وہ اس مطالبہ سے دستبردار ہوگئے کہ قومی زبان کا نام ہندوستانی ہوا اور انھوں نے یہ مان لیا کہ اسے ہندی کہا جائے لیکن اس پر بدستور اصرار کرتے رہے کہ وہ دیوناگری اور فارسی دونوں لپیوں میں لکھی جائے۔ اس معاملہ میں ان کو جنوبی ہندوستان کے نمائندوں کی تائید بھی حاصل تھی۔ لیکن ہندی پریمیوں کی تنگ نظری اتنے پر بھی آمادہ نہیں ہوسکی اور کمیٹی میں ایک ووٹ کی اکثریت سے طے ہو گیا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader