Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جنوری ۱۹۹۲ رات کو پٹاخوں کی آواز سے نیند کھل گئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آدمی رات کو آخر کس لئے پٹاخے چھوڑے جارہے ہیں۔ گھڑی دیکھی تو اس میں بارہ بج کر کچھ منٹ ہوئے تھے۔ پھر یاد آیا کہ بارہ بجکر ایک منٹ پر نیا سال شروع ہوتا ہے۔ اسی کی خوشی میں یہ پٹاخے چھوڑے جارہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ، نہ دنیا کی ذمہ داری کا اور نہ آخرت کی ذمہ داری کا۔ اسی لئے وہ نئے سال کی آمد پر خوش ہو کر پٹاخے چھوڑ رہے ہیں۔ اگر لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو تو نئے سال کی آمد انہیں فکر مند کر دے۔ وہ اپنا احتساب کرنے لگیں۔ انہیں پچھلے سال کی کوتاہیاں یاد آئیں اور اگلے سال کی ذمہ داریاں۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ کبھی پٹاخہ بازی جیسے کام میں مشغول نہیں ہو سکتے۔ ان کا احساس ذمہ داری انہیں خاموش کر دے گا نہ کہ وہ غیر سنجیدہ ہو کر شور و غوغا کرنے لگیں۔ ۲ جنوری ۱۹۹۲ جمعیۃ علماء ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس لاہور میں نومبر ۱۹۲۱ میں ہوا۔ اس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ مولاناشبیر احمد عثمانی نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ " میرے استاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب مرحوم نے مولانا ابوالکلام آزاد کی نسبت فرمایا تھا کہ : ابوالکلام نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے۔ اس سبق سے مراد خلافت کی سیاسی تحریک ہے۔ اس کے مطابق تین، بڑے عالم، مولانا محمود حسن ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مولاناشبیر احمد عثمانی کے نزدیک مسلمانوں کا بھولا ہوا سبق خلافت تھا۔ حالاں کہ اس کے برعکس ، خلافت کا سبق مسلمانوں کو خوب یاد تھا اور اب بھی یا دہے۔ البتہ جو سبق مسلمان بھول گئے ہیں وہ دعوت ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو جس بھولے ہوئے دینی سبق کو یاد دلانے کی ضرورت تھی وہ دعوت ہے نہ کہ سیاست۔ مولانا حمید الدین فراہی قرآن فہمی کے لئے حدیث کو اصل نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کو قرآن سے سمجھنا چاہیے۔ اس پر فراہی اسکول کے ایک صاحب سے گفتگو ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page