ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جنوری ۱۹۹۱ء آج نئے سال کا پہلا دن تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تھا تو ایک ہندو جزلست بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا "ہیپی نیو ائیر" میں سوچنے لگا کہ کیا واقعہ نئے سال کا آنا آدمی کے لئے خوشی کا موقع ہے۔ دل نے کہا کہ یہ خوشی کا نہیں بلکہ تشویش کا موقع ہے۔ کیوں کہ نئے سال کا آنا ایک سال کے ختم ہونے کی خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا۔ موت کی منزل آدمی کے لئے کچھ اور زیادہ قریب ہو گئی۔ ۲ جنوری ۱۹۹۱ شیخ حسن البنا الاخوان المسلمون کے بانی تھے۔ وہ اچھے مقرر تھے مگر انھوں نے کوئی خاص کتاب نہیں لکھی۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ کتابیں کیوں نہیں تصنیف کرتے۔ حسن البنا نے جواب دیا: أصنف الرجال وهم يضئفون الکتب میں افراد تیار کرتا ہوں اور وہ کتاب تیار کرتے ہیں۔ اخوانی لوگ اس کو بطور فخر بیان کرتے ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ شیخ حسن البنا نہ صرف یہ کہ مصنف نہیں تھے بلکہ وہ شاید یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ آج مصنف ہونے کا مطلب کیا ہے۔ ۳ جنوری ۱۹۹۱ ایک دعا میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ اے اللہ، میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں اور تیرے عذاب سے ڈرتا ہوں (نرجو رحمتک ونخشى عذابك) اس کو میں نے پڑھا تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ خدایا میرے پاس عمل کا اثاثہ نہیں۔ میرا وحد اثاثہ یہ ہے کہ میں تیری رحمت کا حریص ہوں اور تیرے عذاب سے خائف ہوں۔ اس دعا میں انسان کے لئے ایک سہارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رجاء کے درجہ میں جنت کا طالب ہونا اور خشیت کے درجہ میں جہنم سے بیزار ہونا بھی انسان کے لئے ایک استحقاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی شخص اس ابتدائی معیار پر بھی پورا اتر تو اسے خدا کی رحمت اس کو اپنے سامیہ میں لے لے گی۔ مگر رجاء اور خشیت سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader