Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

مراد حقیقی رجا اور خشیت ہے نہ کہ ان الفاظ کا لسانی اعادہ۔ آج جمعہ کا دن تھا۔ میں نے کالی مسجد میں نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو حسب معمول دروازہ پر مانگنے والوں کی قطار تھی۔ ایک عورت اپنے تقریبا ۴ سالہ بچے کو لیکر دروازہ پر بیٹھی ہوئی سوال کر رہی تھی۔ غالباً اس کی امید کے مطابق اس کو نہیں ملا۔ جانے والے نمازیوں کی طرف رخ کر کے وہ زور زور سے کہنے لگی: ”یہ کیسے مسلمان ہیں، ایک روپیہ دو روپیہ نہ دے سکیں۔ سب کافر ہیں کافر۔“ مذکورہ جاہل عورت نے جو بات بھونڈے انداز سے کہی، وہی موجودہ زمانہ کے علماء واکابر کا حال بھی ہے۔ جو شخص ان علماء پر تنقید کر دے یا جوان کی امیدوں کو پورا نہ کرے وہ ان کی نظر میں ایسا برا ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مسلمان ہی نہیں۔ ۵ جنوری ۱۹۹۱ ندوہ کے دو درجن طلبہ تبلیغی مرکز (نظام الدین) میں آئے۔ ان کا مقصد مولانا سعید احمد صاحب مکی کی زیارت کرنا تھا، جو مکہ سے پاکستان آئے اور اب یہاں آئے ہیں۔ ان میں سے اکثر طلبہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ الرسالہ کے مطالعہ کے بہت شائق رہتے ہیں۔ مگر ہم لوگوں کو بہت کم ملتا ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ لوگ خود خرید لیتے۔ وہ خریداری کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے موجودہ سفر میں کتنا خرچ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی کس ۱۵۰ روپیہ۔ میں نے کہا کہ آپ نے مولانا کی زیارت کے لئے ۱۵۰ روپیہ خرچ کر دیا حالانکہ یہ رقم واپس ملنے والی نہیں۔ اور الرسالہ کی خریداری کے لئے آپ ۶۰ روپیہ سالانہ خرچ نہیں کرسکتے، حالانکہ اگر آپ پرچے واپس کر دیں تو آپ اپنی ساری رقم دوبارہ واپس لے سکتے ہیں۔ یہ بے ذوقی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ مسٹر ایم شفیع، پرگتی میدان (نئی دہلی) میں رہتے ہیں۔ وہ حکومت یوپی کے ڈائرکٹریٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page