Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

مدینہ چلے گئے تاکہ ہجرت والا ثواب حاصل کر سکیں۔ مگر یہ ہجرت کی تفسیر ہے۔ اس وقت مکہ اور مدینہ دونوں جگہ کے لوگ مشرک تھے لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھے تو دونوں میں ایک فرق تھا۔ مکہ والوں کے لئے شرک ایک مادی انٹرسٹ کا معاملہ تھا۔ مقامی طور پر ان کے لئے آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ اس لئے انھوں نے تمام عرب قبائل کے بت کعبہ میں رکھ لئے۔ تاکہ وہ آکر نذرانہ دیں اور مکہ والوں کو گھر بیٹھے آمدنی ہوتی رہے۔ اس کے برعکس مدینہ میں زراعت اور باغبانی تھی۔ اس لئے شرک ان کے لئے صرف ایک آبائی رسم تھی نہ کہ مکہ والوں کی طرح تجارتی انٹرسٹ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ والوں نے دعوتِ توحید کی سخت مخالفت کی، جبکہ مدینہ والوں نے کسی مزاحمت کے بغیر اس کو قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے زمانہ قیام میں کچھ مقری (مبلغ) مدینہ بھیجی۔ غالباً اس لئے کہ وہاں کی مقبولیت کا اندازہ ہو سکے۔ جب معلوم ہوا کہ مدینہ والوں میں، مکہ کے برعکس مقبولیت کا مادہ موجود ہے تو آپ خاموشی سے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اس طرح یہ ہجرت گویا کم مواقع کی جگہ سے نکل کر زیادہ مواقع والی جگہ کی طرف جانے کے ہم معنی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page