آغازِ کلام
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری کہ إن أرضی واسعة (العنكبوت (۵۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلم گروہ کو مکہ جیسے حالات پیش آئیں تو اس کو یہ نہیں کہ نا ہے کہ فریق ثانی کو ظالم بتا کر اس سے لڑا جائے۔ بلکہ اس کے بجائے اسے پر امن تدبیر کے انداز میں اس کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۹۳ امریکہ میں میری ملاقات کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ہوئی۔ وہاں انھوں نے ایک مسلم تھنک ٹینک (Muslim Think Tank) بنایا ہے۔ بہت سے دماغوں نے کئی سال کی تحقیق کے بعد ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ اس کی ایک کاپی انھوں نے مجھے دی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم قوموں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے ہمیں مغرب کی ترقی یافتہ قوموں کے نمونہ پر ایک اسٹریٹیجی بنانا ہے، مثلاً مسلم ملکوں کے درمیان ناٹو (NATO) جیسا ایک معاہداتی ادارہ قائم کرنا، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں ہم مغربی ملکوں کے پیٹرن پر کوئی عملی پروگرام نہیں بناتے۔ کیوں کہ ان قوموں نے طویل جدوجہد کے ذریعہ جو انفراسٹرکچر تیار کیا ہے وہ ہمارے پاس سرے سے موجود نہیں۔ ہم کو تو آغاز سے چلنا ہے۔ جب کہ وہ لوگ اختتام سے چلنے کی پوزیشن میں ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمارا واحد پروگرام صرف ایجوکیشن ہو سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ دوسرے تمام پروگرام صرف خوش فہمی ہیں نہ کہ فی الواقع کوئی پروگرام۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ قرآن میں ہے کہ لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة (۲۱) الاحزاب) ظاہر ہے کہ یہ اسوہ حسنہ محدود معنوں میں نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات کے لئے ہے۔ مگر اس اسوہ کو جاننا سنت رسول کے گہرے مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔ مثلاً، ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کو بس مکہ سے مدینہ جانے کے ہم معنی سمجھ لیا۔ انھوں نے مدینہ کا نام دار الہجرت رکھ دیا اور ترک وطن کر کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader