Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جنوری ۱۹۹۳ یکم جنوری کو میں امریکہ میں تھا۔ امریکہ میں آپ جدھر جائیں، آپ کو ہر طرف زر ق برق کاریں اور شاندار مکانات دکھائی دیں گے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ یہاں سب اعلیٰ دولت مند لوگ رہتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں ہر چیز سودی قرض پر مل جاتی ہے۔ خواہ مکان ہو یا کار، ہو یا فرنیچر یا کوئی اور چیز۔ چنانچہ لوگ اپنی حقیقی آمدنی سے زیادہ حیثیت کی چیزیں سودی قرض کی بنیاد پر حاصل کر لیتے ہیں اور پھر ساری زندگی کما کما کر اس کی قسطیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ اس زندگی میں خوش کیسے رہتے ہیں۔ میرا تو حال یہ ہے کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی قرض نہیں لیا۔ چند روپیہ کا بلا سودی قرض بھی میرے اوپر ہو تو مجھ کو نیند نہیں آئے گی، اور آپ لوگوں کا حال یہ ہے کہ سودی قرضوں میں گویا نہائے ہوئے ہیں۔ پھر بھی آپ لوگ سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ۲ جنوری ۱۹۹۳ حافظ افتخار احمد صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ فیروز آباد کے رہنے والے ہیں۔ اور چوڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ رسالہ خود بھی پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۲ میں فیروز آباد میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ اس وقت وہاں کے مسلمانوں نے مسلم یونیورسٹی کے سوال پر یوم سیاہ منایا تھا۔ لوگ اپنے ہاتھ میں کالی پٹیاں باندھ کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ اس دوران کچھ مسلم نوجوان پولیس کی ایک ٹولی کو دیکھ کر جوش میں آگئے اور اس کے اوپر پتھراؤ کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ اس کے نتیجہ میں کچھ مسلمان مارے گئے۔ اس کے بعد فیروز آباد میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا۔ اس میں مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس کے برے اثرات وہ عرصہ تک مختلف صورتوں میں بھگتتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے ۲۰ سال بعد ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو ٹینشن پیدا ہوا۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر فیروز آباد میں کرفیو لگا دیا۔ اس دوران

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page