Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

دوبارہ ایسا ہوا کہ پولیس والے پٹرولنگ پر آئے تو ان کو دیکھ کر مسلم نوجوان جوش میں آگئے۔ انہوں نے پولیس پر پتھر پھینکنا چاہا۔ مگر اس بار ہمارے بڑے فوراً حرکت میں آگئے۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں کو پتھر پھینکنے سے روک دیا۔ چنانچہ اس بار ٹینشن کے باوجود، فیروز آباد میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ ۱۹۷۲ میں فیروز آباد کے مسلمان ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کر کے برباد ہو گئے تھے۔ مگر اب انہوں نے اعراض کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ چنانچہ اب وہ ہر شعبہ میں ترقی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آج فیروز آباد میں ماروتی کار سب سے زیادہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ وغیرہ ۳ جنوری ۱۹۹۳ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں موسیٰ کے مقالہ میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت موسیٰ پہاڑ پر چڑھے۔ یہودیوں نے اس کے بعد کبھی موسیٰ کو نہیں دیکھا۔ ان کی موت اور تدفین پر اسرار بن کر رہ گئی : The Hebrews never saw him again, and the circumstances of his death and burial remain shrouded in mystery. (12/490) پچھلے تمام پیغمبروں کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق بلاشبہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے۔ مگر خالص تاریخی معیار کے مطابق ، ان کے واقعات ثابت شدہ نہیں ہیں۔ اس عموم میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثناء ہے۔ آپ کی شخصیت مکمل طور پر ایک تاریخی شخصیت ہے نہ کہ صرف اعتقادی شخصیت ۔ پیغمبر اسلام اور دوسرے پیغمبروں کا یہ فرق اس لئے نہیں ہے کہ مسلمان اس پر فخر کریں۔ وہ اس سے برتری کی غذا حاصل کریں۔ یہ فرق صرف دعوتی ضرورت کے لئے ہے۔ وہ اس لئے ہے تاکہ دعوت کا کام زیادہ آسانی کے ساتھ انجام پاسکے۔ مکہ سے نکلنے والے عربی اخبار العالم الاسلامی کے شمارہ ۱۹ دسمبر ۱۹۹۳ میں ایک انٹرویو چھپا ہے۔ یہ انٹرویو مصر کے الشیخ منصور الرفاعی کا ہے۔ اس انٹرویو میں ان کے ایک جواب کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page