Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

آغازِ کلام ڈائری، اپنے عام مفہوم میں، کسی آدمی کے ذاتی مشاہدات اور تجربات کا روز نامچہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ڈائری کو تاریخی یا سوانحی اعتبار سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈائری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آدمی بے تکلف انداز میں بہت سی ایسی باتیں لکھ دیتا ہے جن کو وہ کتاب میں لکھنا پسند نہیں کرتا۔ ڈائری لکھنے کا طریقہ بہت پرانا ہے۔ مثلاً رومیوں کے یہاں اس کا رواج پایا جاتا تھا۔ تاہم پہلے یہ تھا کہ ڈائری اور یادداشتوں (memoirs) میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ قرون وسطی کے آخر میں دونوں کو الگ الگ انداز سے مرتب کیا جانے لگا۔ پریس کے دور نے ڈائری کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انگلستان میں پہلا قابل ذکر ڈائری نگار وہائٹ لاک (Bulstrode Whitelock) ہے جس کا زمانہ ۱۶۰۵ء تا ۱۶۷۵ء تھا۔ فرانس کا ابتدائی ڈائری نگار (Marquis de Dangeau) ہے جس کا زمانہ ۱۶۳۸ء تا ۱۷۲۰ء تھا۔ تاہم دورِ جدید میں جس کی ڈائری کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی وہ سموئل (Samueuel Pepys) ہے۔ اس نے یکم جنوری ۱۶۶۰ء سے اپنی ڈائری لکھنا شروع کیا جو کہ ۳۱ مئی ۱۶۶۹ تک جاری رہی۔ اسی طرح جذباتی تحریر کے اعتبار سے ڈبلن کے مسٹر سویفٹ (Jonathan Swift) کی ڈائری بہت مشہور ہے۔ وہ ۱۷۱۰ء اور ۱۷۱۳ء کے درمیان لکھی گئی۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں کی ڈائریوں نے شہرت حاصل کی۔ مثلاً فینی برنی (Fanny Burney) جیمس با سویل (James Boswell) سروالٹر اسکاٹ (Sir Walter Scott) رابنس (Henry Crabb Robinson) اور اسی طرح گوئے، شیلر، ورڈس ورتھ، کولرج، وغیرہ۔ بیسویں صدی میں ڈائری لکھنے کا عام رواج ہو گیا۔ تعلیم یافتہ دنیا کا تقریباً ہر قابل ذکر آدمی اپنی ڈائری لکھنے لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ قابل تقلید عادت اور کوئی نہیں، اہل علم کے لیے بھی اور عام لوگوں کے لیے بھی (III/524)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page