آغازِ کلام
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
راقم الحروف کو ڈائری لکھنے کا خیال بہت عرصہ سے تھا۔ اور میں کچھ لکھتا بھی رہتا تھا۔ تا ہم باقاعدہ صورت میں ڈائری کا اہتمام میں نے یکم جنوری ۱۹۸۳ سے شروع کیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی بات یا کوئی نہ کوئی احساس یا تجربہ ہر روز قلم بند کرتا رہا ہوں۔ اس طرح میری ڈائریوں کا ایک وسیع ذخیرہ اکٹھا ہو گیا ہے۔ ان ڈائریوں کو دو دو سال کے مجموعہ کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ میری یہ ڈائریاں معروف انداز کی ڈائریوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ یہ ایک طرح کا ذاتی ریکارڈ ہے جس میں اس قسم کے اندراجات بھی ہیں جو عام طور پر ڈائری سے متعلق سمجھے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ چیزیں بھی ہیں جن کو خاطر کہا جا سکتا ہے۔ میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرساله یا کتابوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ اس کا دوسرا، نسبتاً غیر منظم حصہ، ڈائریوں کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کر لی اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔ ڈائری کا لفظ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ کسی شخص کی روزانہ زندگی کا ریکارڈ ہے۔ حالاں کہ نہ ایسا ہے اور نہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ ایک انسان کی زندگی اتنی زیادہ گہری اور وسیع ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی مجموعہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ کسی شخص کی ڈائری کو پڑھ کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اس کی زندگی کو پڑھ لیا۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے کیا ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو الفاظ کے کسی بھی مجموعے کی پکڑ میں نہیں آتی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ایک کتاب لکھے جس کا نام ہو ”میری زندگی ، اے سے زیند تک‘‘ تب بھی وہ اس کی زندگی کی ادھوری کہانی ہوگی نہ کہ مکمل کہانی۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader