آغازِ کلام
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جنوری ۱۹۹۳ میری زندگی کے ۶۷ سال پورے ہو گئے۔ مسنون عمر کا لحاظ کیا جائے تو اب میں اس سے آگے پہنچ چکا ہوں۔ یہ ضو لکھے بغیر اگر میری موت آجائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہ ہوگی۔ کسی قدر غیر یقینی ہے سارا معاملہ۔ تقریباً ۵۰ سال پہلے ایک مسلمان جوتشی نے میرا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ تمھاری عمر ۷۰ سال ہے۔ مگر نہ اس وقت مجھے یقین تھا اور نہ اب یقین ہے کہ میں ابھی اور کتنے دن جیوں گا۔ بس یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خاتمہ بالخیر فرمائے۔ ۲ جنوری ۱۹۹۳ ہندوستان ٹائمز (۲ جنوری) میں صفحہ گیارہ پر مٹر جے ایس یادو کا مضمون ہے۔ اس کی سرخی مجھے پسند آئی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ـــــــــ مصیبت کو مواقع میں تبدیل کر لینا : Turning adversity into an opportunity یہی زندگی کی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں مصیبتیں اور دشواریاں بہرحال پیش آتی ہیں۔ ان مصیبتوں اور دشواریوں کے خلاف احتجاج کرنے سے کوئی دُن فائدہ نہیں۔ کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ مصیبتوں کو مواقع میں تبدیل کر لیا جائے۔ ۳ جنوری ۱۹۹۳ پچھلے سال میں بھوپال گیا۔ وہاں میری ایک تقریر تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اقبال کا شعر آپ کی تقریر کا موضوع ہے۔ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ میں نے کہا کہ یہ شعر تو میرے نزدیک صحیح نہیں۔ پھر میں اس کو اپنی تقریر کا عنوان کس طرح بنا سکتا ہوں۔ میرے نزدیک اصل بات یہ نہیں ہے کہ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے، چنگیزی، بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جدا ہو خوف خدا اہل سیاست سے تو پھر سیاست چنگیزی بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک شخص کے پاس لہو لعب کے آلات ہیں۔ ایک واعظ اس کے یہاں آتا ہے۔ وہ اس کو نصیحت کرتا ہے۔ اور جب وہ نہیں مانتا تو واعظ اس کے آلات لہو کو توڑ ڈالتا ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader