Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بارہ میں امام ابوحنیفہ سے فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آلات لہو کو توڑنا کسی وعظ یا کسی عام شخص کو جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس پر ضمان ( جرمانہ ) لازم آئے گا۔ کیوں کہ یہ کام سلطان (حکمران ) کا ہے۔ حکومت ہی ایسا احتساب کر سکتی ہے اور کسی کو سزا دے سکتی ہے۔ یہ نہایت حکیمانہ بات ہے۔ کیوں کہ عام شخص جس کے پاس سیاسی قوت نہیں وہ لوگوں کو سزا دے تو اس سے سزا تو واقع نہ ہوگی ، البتہ فساد پیدا ہو جائے گا۔ ۵ جنوری ۱۹۹۳ عربی ہفت روزہ الدعوۃ (ریاض) کے شمارہ ۲ مئی ۱۹۹۱ میں درج ہے کہ اجودھیا کی بابری مسجد ہند و منصوبہ کا صرف آغاز ہے۔ ان کے پاس مزید تین سو مسجدوں کی فہرست ہے جن کو ڈھانا چاہتے ہیں۔ (ان الھنود عندهم قائمة بثلاثة آلاف مسجد يريدون ان يهدموها ) مزید لکھا ہے کہ اس کا مقصد ہندوستان میں اسلام کو ختم کرنا ہے۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ ہندوؤں کی تنظیمیں اسپین کی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کر رہی ہیں تاکہ اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کو ہندوستان میں دہر اسکیں : والمقصود هو القضاء على الاسلام فى الهند - بل سمعت ان هذه المؤسسات الهندسوية تدرس تاريخ الاسلام فى اسبانيا حتى يتم تكرار ما حدث من طرح المسلمين من الهند كما حدث لهم فى الاندلس (صفحه ۲۵ ) یہ بات بہت سے مسلمانوں نے لکھی ہے۔ مگر ہر ایک ”سمعتُ“ کے لفظ سے اس کا ذکر کرتا ہے۔ کسی نے آج تک اس کا متعین حوالہ نہیں دیا۔ اس قسم کے بیانات اس حدیث کے تحت آتے ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ : ”کفی بالمرء کذباً أن یحدث بکل ما سمع ۶ جنوری ۱۹۹۳ احسن البصری ایک تابعی ہیں۔ انہوں نے بہت سے صحابہ کو دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خشکی میں اور سمندر میں تجارت کرتے تھے (کان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتجرون في البر والبحر )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page