Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

لقد أوتيت سؤلك يا موسىٰ

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

گا جس کا اعلان آپ کی سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے۔ خدایا یہ وہ لمحہ ہے کہ نہ میرے لئے کوئی دوسرا انتخاب ہے اور نہ آپ کے لئے کوئی دوسرا انتخاب۔ خدایا یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندے کا عجز اور خالق کی قدرت دونوں ایک سطح پر آ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ میرے لئے واپسی کا موقع ہے اور نہ آپ کیلئے مجھ کو نظر انداز کرنے کا موقع۔ رہ دعا کر کے میں باہر آیا اور ہال کے اندر مقرر کرسی پر بیٹھ گیا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا یہ دائرے میں باہر اور وہاں سے اندر دائروں میں بیٹھا تھا۔ پرا ہاں میں ملے ، بر ہوا تھا۔ یہاں صرف مجھ کو تقریر کرنا تھا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں بولنا شروع کیا ۔ اور تقریر ایک گھنٹے تک انگریزی میں بولتارہا۔ میں نے پوری تقریر برجستہ طور پر اور روانی کے ساتھ کی۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں، لیکن مجمع کی طرف سے کوئی سوال نہ آیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ تمام لوگ آپ کی انگریزی تقریر سے اس قدر مسحور تھے کہ وہ اپنے اندر سوال کرنے کی جرات نہ پاسکے۔ اس تجربے کے بعد میری زندگی میں غیر متوقع طور پر ایک نیا دور آیا، جب کہ میں برجستہ طور پر انگریزی زبان میں بولنے لگا۔ انگریزی میں گفتگو، انگریزی میں انٹرویو، انگریزی میں تقریر۔ یہ سب جو اس سے پہلے میری زندگی میں موجود نہ تھا، اب وہ عمومی طور پر میری زندگی میں شامل ہوگیا اور بفضلہ تعالیٰ تادمِ تحریر (30 اگست 2007ء) جاری ہے۔ آزادیء ہند (1947) کے بعد جب میں نے خصوصی طور پر انگریزی سیکھنا شروع کیا تو ہر ایک میری حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی (عبدالعزیز خاں) نے میرے انگریزی شوق کو دیکھ کر کہا تھا: بڑھا ٹوطا کیا پڑھے گا۔ عام تجربے کے لحاظ سے ان کا ایسا کہنا بالکل درست تھا۔ لیکن خدا کی نصرت سے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو انسان سے نہیں ہوسکتا۔ میرے گمان کے مطابق مذکورہ دعا بلا شبہ اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی اور اسی دعا کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک نہ ہونے والی بات واقع بن کر لوگوں کے سامنے آگئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page