Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

لقد أوتيت سؤلك يا موسىٰ

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیونکہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ خبر میرے لئے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے ۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کئے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ ہال کے ساتھ وہاں ایک سائڈ روم تھا۔ میں سراسیمگی کے عالم میں اس سائڈ روم میں گیا۔ میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا۔ اور وضو کر کے دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا! یہاں ایک عاجز مطلق کو قادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چلا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ اگر آپ حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا، مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا! آپ خود اپنے قانون امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں۔ خدایا! میں آپ کے تمام اسماء حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے لئے پلے بیک اسپیکر (playback speaker) بن جائیں۔ آپ بولتے جائیں اور میں اس کو دہراتا جاؤں۔ آپ خاموشی کی زبان میں مجھ کو بتائیں اور میں نطق کی زبان میں اس کو دوسروں کے سامنے پیش کروں۔ خدایا! اگر میں اس موقع پر نہ بولوں تو یہ میرے لئے فرار من الزحف‘ کے ہم معنی ہوگا۔ اور اگر آپ میری مدد نہ کریں تو اس بات کا اعلان نہ ہو سکے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page