Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

(abolition act نافذ ہوا۔ نیشنل گورنمنٹ کے تحت یہ قانون اس اصول پر مبنی تھا کہ...... جو جوتے اس کا کھیت۔ میرا خاندان یوپی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمین داروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو ان کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے تھے۔ خاتمہ زمین داری کے قانون کے مطابق زمین دار کو اس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی وہ یہ کہ زمین لو جو تنے والا لسان تحریری طور پر زمین سے استعفادے دے۔ ہماری بیش تر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں ۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ہماری زمیں داری کے منیجر بھی ایک ہندو تھے جن کا نام بھاورام تھا۔ بھاورام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔ انہوں نے ایک طوفانی مہم چلادی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے وہ تحریری استعفادے دیں۔ بھاؤرام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے استعفا لکھوالیا۔ ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفا حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔ اس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔ وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ: بابو جم داری میں داغ نہ لگنے پائے (بابو زمین داری میں داغ لگنے نہ پائے) میں اس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔ تیرا دین اس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اس داغ کو ہٹاؤں، میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور اشک بار آنسوؤں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔ اس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دلی پبلک لائبریری میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page