عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جا کر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ رہا تھا۔ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ چنانچہ مجھ سردی لگ گئی اور میں بیمار ہو کر تقریباً دو مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔ آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریبا ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں، جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لئے وقت کے اسلوب میں اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہل علم نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔ امریکہ میں کچھ لوگ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت میری تمام کتابوں اور ماہ نامہ الرسالة کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصہ میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ انشاء اللہ اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لئے وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فجزيهم الله خير الجزاء۔ "عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا وجود میں آنا بلا شبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader