دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے حریف کے مقابلے میں نصرتِ خداوندی کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔ کیونکہ ان تمام ضرورتوں میں دونوں گروہوں کے درمیان نوعی فرق ہے اور جب نوعی فرق پایا جائے تو کسی بھی تعداد پر کوئی نصرت نازل نہیں ہوتی۔ جب بھی ایسا ہو کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق باعتبار نوعیت ہو جائے تو اہل اسلام کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کو ختم کر کے کمیت کی سطح پر لے آئیں اور اس کے بعد ہی وہ نصرتِ الٰہی کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔ ہیں۔ اس لئے بندوں وہ صرف وہی ہے جس پر وہ پاتے ہیں۔ دعا یا کرتب ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کیلئے ملازمت کا فارم بھرے تو اس کا نام درخواست ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ یقین کرے کہ اسی حال میں سات دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی تو یہ کرتب ہے۔ درخواست دینا ایک بالکل معقول بات ہے۔ مگر کرتب اتنی ہی بے معنی چیز ہے۔ اسی طرح خدا سے مانگنے میں بھی ایک دعا کا طریقہ ہے اور دوسرا کرتب کا طریقہ۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے حاجات و مسائل میں خدا کی طرف رجوع کرے اور روئے گڑگڑائے اس سے حاجت روائی کی درخواست کرے۔ یہ عین مطلوب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگو۔ مگر کچھ لوگوں نے اسی کے ساتھ کرتب کے کچھ طریقے نکال رکھے ہیں ...... فلاں لفظ اتنی بار دہرا دو تو بلا ٹل جائے گی، فلاں وقت میں فلاں عمل کر لو تو حاجات پوری ہو جائیں گی۔ فلاں نقش کاغذ پر لکھ کر اتنے دن تک باندھے رہو تو دشمن ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کرتب ہیں۔ دعا (اللہ کو پکارنا) جتنا بامعنی ہے، کرتب (عملیات) کے طریقے اتنے ہی بے معنی ہیں۔ پہلا عین اسلامی ہے اور دوسرا قطعاً غیر اسلامی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader