Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

نصرت الہی کا اصول

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

ترجمہ: اس کی طرف چڑھتے ہیں کلمات پاکیزہ اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔ دعا کے موافق عمل کیا ہے؟ یہ اس دعا سے متعین ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں نصرت کو طلب کرنے کیلئے آدمی مانگ رہا ہو۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسرارِ حکم جاننے کی دعا کر رہا ہو تو اس کیلئے اس دعا کے موافق عمل یہ ہوگا کہ وہ کتاب الہی میں تدبر کرے۔ کوئی شخص نصرتِ معاش کا طلب گار ہے تو اپنی دعا کے ساتھ اس کو معاش کی راہوں میں اپنی ممکن جدوجہد صرف کرنی ہوگی۔ اغیار کے خلاف نصرتِ رعب مطلوب ہے تو اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ اعدائے اسلام پر نصرتِ فتح کی دعا کی جارہی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان کے اوپر دعوتِ الی اللہ کا کام شروع کیا جائے اور اس کو اتمامِ حجت کی حد تک لے جانے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو پوری طرح آگاہ کرنے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔ ہلاک نہیں کرتا۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اہل اسلام اگر ۲۰ ہوں تو اہل باطل کے ۲۰۰ پر غالب آئیں گے ۔ مگر اللہ کا وعدہ ہے کہ ان اسلام آدر ۴۰۰ ہوں تو ہاں پاس کے ۴۰ او پر غالب آئیں گے۔ مگر ضروری ہے کہ دونوں کے گروہوں کے درمیان یہ فرق باعتبار کمیت نہ ہو بلکہ باعتبار نوعیت ۔ یعنی اہلِ باطل جس چیز میں "دوسو" ہوں، اہلِ حق کو اسی چیز میں "بیس" ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو کہ ایک طرف دوسو بندوقیں ہوں اور دوسری طرف میں تلواریں تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا۔ کیونکہ اس صورت میں فرق کمیت کا نہ رہا، نوعیت کا ہو گیا۔ اسی طرح اگر اہلِ اسلام کے پاس روایتی علم ہو اور اہلِ باطل کے پاس سائنسی علم۔ اہلِ اسلام جوش سے مسلح ہوں اور اہلِ باطل نے ہوش کا خزانہ جمع کر رکھا ہو، اہلِ اسلام کے پاس زمانہ سے بے خبری ہو اور اہلِ باطل کے پاس زمانہ سے آگاہی، اہلِ اسلام کے پاس اختلاف کا سرمایہ ہو اور اہلِ باطل کے پاس اتحاد کا۔ اہلِ اسلام کے پاس بے تربیتی ہو اور اہلِ باطل کے پاس منصوبہ بندی، اہلِ اسلام قدیم قوتوں کے مالک ہوں اور اہلِ باطل جدید قوتوں کے ، تو اہلِ اسلام کو کبھی یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page