Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

خدا سے غافل

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا سے غافل کسی شخص سے اس کے عزیز بیٹے کا ذکر کیجئے تو اس کے پاس اپنے بیٹے کے بارہ میں کہنے کے لئے اتنی زیادہ باتیں ہوں گی کہ کبھی ختم نہ ہوں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا تذکرہ کیجئے تو وہ اس طرح غیر متحرک بنارہے گا جیسے کہ اس کے پاس خدا کے بارہ میں کہنے کے لئے کوئی بات ہی نہیں۔ جیسے کہ وہ خدا کے بارہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ کسی شخص کو اس کے خاندانی بزرگ کی یاد دلا دیجیے تو وہ اس قدر پر جوش طور پر بولنے لگے گا جیسے کہ اس کے تمام اندرونی احساسات جاگ اٹھے ہوں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا ذکر کیجیے تو وہ جذبات سے اس طرح خالی نظر آئے گا جیسے کہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ خدا کے بارے میں کیا کہا جائے ۔ کسی شخص کے سامنے اس کے جماعتی اکابر کا نام لیجیے ۔ اچانک الفاظ کا دریا اس کی زبان سے ہہ پڑے گا۔ وہ اس وقت تک چپ نہ ہوگا جب تک آپ مداخلت کر کے موضوع بدل نہ دیں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا نام لیجئے تو اس کے اندر کوئی جوش پیدا نہ ہوگا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے اس کے پاس خدا کے بارہ میں بولنے کیلئے کوئی چیز ہی نہیں۔ ایک شخص کے سامنے اس کے قومی ہیرو کا چرچا کر دیجئے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اچانک وہ بادشاہ سخن بن کر ظاہر ہو گیا ہے۔ مگر اسی کے سامنے خدا کا چرچا کیجئے تو وہ ایسا نظر آئے گا جیسے کہ اس کے اندر خدا کا نام سن کر کوئی ہلچل ہی پیدا نہیں ہوئی جو اس کو بولنے پر مجبور کر دے۔ آہ وہ لوگ جن کے پاس رجال کی تعریف کے لئے الفاظ ہوں مگر خدا کی تعریف کے لئے ان کے پاس الفاظ نہ ہوں۔ انسانوں کے بارہ میں وہ معلومات کا خزانہ بنے ہوئے ہوں مگر خدا کے بارہ میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں جو ان کے زبان یا قلم سے جاری ہو۔ کیا سینوں میں ایمان کے سوتے خشک ہو گئے ۔ کیا لوگوں نے خدا کی عظمت کو محسوس نہیں کیا جس کو وہ لوگوں سے بیان کریں۔ کیا لوگوں کو خدا کے کمالات کا کوئی مشاہدہ نہیں ہوا۔ کیا انہیں صرف مخلوقات کی خبر ہے خداوند ذوالجلال کی انہیں کوئی خبر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page