خدا کی کائنات میں غور وفکر سب سے بڑی عبادت ہے
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کی عبادت سے افضل ہے۔ ام دردائ سے پوچھا گیا کہ ابودرداء کی محبوب عبادت کیا تھی‘ فرمایا غور وفکر۔ ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ساعت کاغورو فکر ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی وہ مخفی یاد جس کو فرشتے بھی نہ سن سکیں‘ اس کا ثواب ستر درجہ زیادہ ہے۔ عبادہ بن صامت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ بہترین ذکر خاموش ذکر ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کا درجہ رکھتا ہو۔ ایک حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا کہ اللہ کو ذکر خامل سے یاد کیا کرو، پوچھا گیا، ذکر خامل کیا ہے۔ فرمایا " مخفی یاد "۔ یہی وہ ذکر ( یاد الہی ) ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جو ایسا کرے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ عن ابی ہریرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم الدنيا ملعونة و ملعون مافيها الاذكر الله و مادلاه و عالما و متعلما نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی۔ مگر اللہ کی یاد اور وہ چیزیں جو اس کے قریب ہو اور عالم اور طالب علم۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ غور وفکر کو افضل عبادت اس لئے کہا گیا کہ اس میں ذکر (یاد الہی) تو موجود ہوتا ہی ہے، اسی کے ساتھ اس میں دو چیزوں کا اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کی معرفت، کیونکہ غور وفکر معرفت کی کنجی ہے، دوسرے اللہ کی محبت کہ وہ فکر سے پیدا ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں، اگر علم چاہتے ہو تو قرآن کے معانی پر غور کرو کہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader