Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

معیاری زندگی

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

معیاری زندگی انسان کی کامیابی کیا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی قربت نصیب ہو۔ دنیا میں یہ قربت "ذکر" کی صورت میں حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں یہ قربت "جنت" کی صورت میں خدا کے ذاکر بندوں کو ملے گی۔ ذکر دراصل خدا سے حسیاتی قربت کا دوسرا نام ہے۔ آدمی کے شعور اور احساس پر جب خدا کا تصور غالب آتا ہے تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل پر خدا کا خیال چھایا رہتا ہے۔ ہر تجربہ اور مشاہدہ میں اس کو خدا کا جمال و کمال دکھائی دیتا ہے۔ اسی یاد خداوندی کا نام ذکر ہے۔ جب آدمی پر یاد کی یہ کیفیت غالب آتی ہے تو اس وقت اس کی زبان سے تسبیح و تحمید کے کلمات نکلنے لگتے ہیں۔ یہ کلمات رٹے ہوئے الفاظ نہیں ہوتے۔ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار کو’ذکر‘ کہنا ذکر کی تصغیر ہے۔ ذکر اس سے زیادہ لطیف حقیقت ہے کہ وہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار میں سما سکے۔ ذکر دراصل اپنے آپ کو اللہ میں گم کردینے کی ایک حالت ہے‘ یہ بندہ اور خدا کا وہ آخری ملاپ ہے جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے۔ جنت خدا کی نعمتوں کا ابدی باغ ہے۔ یہاں خدا کی نعمتیں اپنی آخری اور معیاری صورت میں ظاہر ہوں گی ۔ یہ جنت انہی لوگوں کا حصہ ہے جن کو اللہ کے سچے ذکر کی توفیق حاصل ہوئی۔ ذکر خدا کی معرفت میں جینے کا نام ہے۔ اور خدا کی معرفت میں جینے سے زیادہ عظیم کوئی زندگی موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ یہ ذکر کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس کا ذریعہ قرآن میں غور وفکر بتایا گیا ہے۔ جب ایک انسان کے اندر ربانی شعور بیدار ہوجاتا ہے تو وہ ہر چیز کو خدائی زاویہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے گرو پیش کی پوری کائنات میں خدا کے جلووں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ہر چیز اس کے لئے خدا کا تعارف بن جاتی ہے۔ ان لطیف تجربات کے دوران اس کی زبان سے جو کلمات حمد نکلتے ہیں انہیں کا نام قرآنی اصطلاح میں ذکر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page