Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

لطیف تجربات

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

لطیف تجربات الاصمعی عبد الملک بن قریب کا بیان ہے کہ میں نے بصرہ میں دیکھا کہ دو قبریں ہیں، ان کے درمیان ایک لڑکی بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔ غم کی وجہ سے اس کا برا حال ہو رہا ہے۔ میں قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ ان الفاظ میں دعا کر رہی ہے: اللهم انك كائن قبل كل شیء وانك كائن بعد كل شیء و انك خالق كل شييء و انك رب قد خلقت ابوی من قبلی ثم خلقتنی بعد هما منهما و انک آنستنی بهما ماشئت ثم او حشتنی منهما اذ شئت ۔ اللهم فكن لهما راحما و کن لی بعد هما حافظا ترجمہ: اے اللہ تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد ہے۔ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اے میرے رب تو ہی نے میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے پیدا کیا، اس کے بعد ان دونوں سے مجھ کو پیدا کیا۔ تو نے ان کے ساتھ مجھے سکون دیا جب تک تو نے چاہا اور پھر جب چاہا تو ان کو مجھ سے جدا کر دیا۔ اے اللہ تو ان دونوں پر رحم فرما اور ان کے بعد میری حفاظت فرما۔ اصمعی کا بیان ہے کہ اس لڑکی کے حسن کلام نے میری عقل کو مبہوت کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اے بیٹی اپنے کلام کو پھر ایک بار دہر ا۔ یہ سن کر اس نے اپنا سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولی: اے شیخ خدا کی قسم میں تمہاری بیوی نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر بے تکلف ہو۔ تم کو اپنے گھر والوں سے بے تکلف ہونا چاہئے۔ اصمعی کہتے ہیں: خدا کی قسم میں یہ سن کر شرما گیا اور وہاں سے بھاگ آیا (ففررت والله عنها حياء منها) ایک معمولی لڑکی کیلئے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ اتنے گہرے انداز میں دعا کرے۔ اسکی وجہ وہ حادثہ تھا جو اس پر گزرا۔ آدمی جب کسی جھٹکے سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھے ہوئے لطیف جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں پالتا ہے جو اس نے اس سے پہلے نہیں پائی تھیں ۔ وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔ آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے۔ مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جو اس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page