ذکر و فکر
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکر و فکر قال الشيخ ابو سليمان الدرانى : انى لاخرج من منزلى فما يقع بصرى على شئیء الا رأيت الله على فيه نعمة و لى فيه عبرة شیخ ابوسلیمان درانی نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو میرا حال یہ ہوتا ہے کہ جس چیز پر بھی میری نظر پڑتی ہے اس میں مجھے اللہ کی نعمت دکھائی دیتی ہے اور اس میں میرے لئے عبرت ہوتی ہے۔ عن الحسن البصری انہ قال : تفکر ساعة خير من قيام ليلة حسن بصری نے کہا کہ ایک گھڑی کیلئے اللہ میں سوچنا ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ قال سفيان بن عُيينه : الفكرة نور يدخل قلبك ويقول : اذا المرء كانت له فكرة ، ففى كل شئىء له عبرة سفیان بن عیینہ نے کہا کہ جو و مرمت نہ روئی ہے، جو تمہارے دن میں داس ہوئی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لئے عبرت و نصیحت ہوگی۔ ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ آدمی مبارک ہے جس کا بولنا یاد الہی کا بولنا ہو۔ جس کی خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو اور جس کا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔ (عن عيسى عليه السلام انه قال: طوبى لمن كان قيله تذكراً وصمته تفكراً ونظره عبراً) دین کی اصل حقیقت ذکر و فکر ہے۔ ذکر و فکر سے مراد معروف قسم کے اور ادو اشغال نہیں۔ ذکر و فکر ایک زندہ عمل ہے جو شعور خدا واندی کی زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص پر اللہ کی حقیقت اپنے جلال و کمال کے ساتھ منکشف ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی روشنی آ جاتی ہے۔ اس کی روح ربانی جلوؤں سے بیدار ہو جاتی ہے۔ ایسا آدمی اندر سے باہر تک بدل جاتا ہے۔ اس کا چپ رہنا اور اس کا بولنا، اس کا دیکھنا اور اس کا سننا، اس کا چلنا اور اس کا رکنا، ہر چیز میں ایک ربانی نور پیدا ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا اس کے لئے رزق رب کا دستر خوان بن جاتی ہے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جس کو مومن باللہ کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader