Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

تسبیح خواتین

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

تسبیح خواتین روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو خاص طور پر ایک تسبیح بتائی۔ یہ عام طور پر تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ۳۳ بار کہو: سبحان اللہ سبحان اللہ۔ پھر ۳۳ بار کہو الحمد للہ الحمد للہ۔ پھر ۳۳ بار کہو: اللہ اکبر اللہ اکبر۔ یہ سب ملا کر ایک سو بار ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے بہت زیادہ ثواب ہے۔ اس تسبیح کو تسبیح فاطمہ کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ ہی کو اس کی تلقین فرمائی تھی ۔ لیکن غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے واسطہ سے امت کی تمام خواتین کو ذکر کا یہ قیمتی تحفہ عطا فرمایا ہے۔ بظاہر وہ تسبیح فاطمہ ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ تسبیح خواتین ہے۔ اصل یہ ہے کہ فطری طور پر عورتوں کا ایک خاص مزاج ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو وہ فوراً ایک دوسرے کی باتوں کا غیر ضروری چرچا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ کسی نہ کسی کے بارہ میں جا و بے جا باتیں ان کا موضوع گفتگو بن جاتی ہیں۔ یہ عورتوں کی ایک عام کمزوری ہے جس سے بہت کم عورتیں اپنے کو محفوظ کر پاتی ہیں۔ مذکورہ تسبیح عورتوں کو اس گناہ سے بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح خواتین کو ایک اچھی مشغولیت دے دی ہے جس میں اپنے آپ کو مصروف کر کے وہ ثواب بھی حاصل کریں اور آخرت کے نقصان سے بھی بچ جائیں۔ خاص طور پر زیادہ عمر کی عورتوں کے لئے وہ اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک عورت کی عمر جب بڑھتی ہے تو اس کے بعد اس کی عملی مصروفیت اسی نسبت سے کم ہو جاتی ہے۔ اس کے لئے اپنے خالی وقت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے بے جا تذکرہ میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ تسبیح کی صورت میں خدا کا ذکر کرنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ دنیا میں اس کو قلبی سکون حاصل ہوگا اور آخرت میں جنت کا ابدی آرام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page