Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 1

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر کی حقیقت ایک صاحب نے پوچھا کہ حدیث میں اذکار کی جو روایتیں ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے اور وہ کس حد تک ضروری ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مختلف اوقات میں ان اذکار کو پڑھنے کا اہتمام کرے۔ میں نے کہا کہ یہ ضروری اور غیر ضروری کا معاملہ نہیں، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو ایمان کے بعد لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جہاں ایمان ہوگا وہاں ذکر بھی پایا جائے گا۔ ایمان اور ذکر دونوں کا ایک دوسرے سے الگ ہونا ممکن نہیں۔ ذکر کیا ہے۔ ذکر دراصل ایک اندرونی حقیقت کا لفظی اظہار ہے۔ آپ کو غیر معمولی خوشی ہو تو آپ بے اختیارانہ طور پر ہنس پڑتے ہیں۔ آپ کو شدید درد ہو تو بے اختیارانہ طور پر آپ کی زبان سے آہ کا لفظ نکل جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص حقیقی معنوں میں خدا کا مومن بنے، اس کا سینہ خدا کی عظمت و جلال سے بھر جائے گا، اس کی روح خدا کے کمالات کے احساسات میں نہا اٹھے گی۔ اور جب ایسا ہو گا تو بے اختیارانہ طور پر خدا کی یاد کے کلمات بھی اس کی زبان سے نکلنے لگیں گے۔ انہیں یاد کے کلمات کا نام ذکر ہے۔ جو شخص واقعہ خدا کو پالئے اس سے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم خدا کا ذکر کرو۔ ایسے شخص کیلئے تو ذکر ایک بے اختیارانہ عمل بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کو ہر مشاہدہ میں خدا کا جلال و کمال دکھائی دے گا، ہر تجربہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے گا۔ اس کا سینہ خدا کے احسانات کے احساس سے سرشار ہو جائے گا۔ اسکے بعد کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا کے بارہ میں خاموش رہے۔ خدا کی معرفت آدمی کے اندر ایک ربانی ہستی پیدا کرتی ہے۔ انسان کے اندر کی یہ ربانی ہستی جب لفظوں کی صورت میں ڈھلنے لگے تو اسی کا نام ذکر ہے۔ ذکر بمعنی یاد وہ سب سے بڑا نذرانہ ہے جو کوئی بندہ اپنے رب کے لئے پیش کر سکتا ہے۔ آدمی جب اپنی عبدیت کو اور اس کے مقابلہ میں خدا کی ربوبیت کو سوچتا ہے تو وہ خدا کی عظمتوں کے احساس کے نیچے دب جاتا ہے۔ خدا کے ان گنت احسانات کو سوچ کر وہ حیران رہ جاتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جو میں اپنے مہربان اور قادر مطلق خدا کو پیش کروں ۔ یہ احساسات کچھ روحانی کلمات کی صورت میں اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں، انہیں کلمات کا نام ذکر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page