Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

خدا کی یاد

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی یاد قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کا بہت ذکر کرو ( یا ایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکراً کثیراً، الاحزاب (۴۱) اس کا مطلب بعض لوگ یہ لیتے ہیں کہ خوب زیادہ اللہ اللہ کرو۔ "اللہ" کا لفظ ہزاروں بار دہر او۔ مگر اس قسم کے ذکر کا مذکورہ آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن میں ذکر کسی قسم کی لفظی تکرار کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یاد کے معنی میں مذکورہ آیت کا مطلب ہے... اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ قرآن میں دوسرے مقام پر ہے کہ میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا ( فاذکرنی اذکركم ، البقرة ۱۵۲ ) اس آیت میں خدا اپنے بندوں سے کہہ رہا ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں ذکر کو تکرارِ الفاظ کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ کیوں کہ خدا ایسا نہیں کرے گا کہ بندہ بندہ بار بار کہہ کر کسی کا ذکر کرے۔ یہاں ذکر لازمی طور پر یاد کے معنی میں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کا بہت زیادہ ذکر کرو (اکثر واذكر ها دم اللذات) اس حدیث میں بھی ذکر لفظی تکرار کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا کہ بیٹھ کر موت‘ موت کہنے لگے۔ اس حدیث میں یقینی طور پر موت کا ذکر کرنے کا مطلب موت کو یاد کرنا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز بہت اچھی تھی۔ قرآن پڑھتے تو لوگ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے‘ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ابو موسیٰ کو آل داؤد کی خوش الحانی دی گئی ہے (لقد اوتی ابو موسیٰ مزماراً من مزامير ال داؤد) روایات میں آتا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ہوئی تو اکثر ان سے کہتے کہ اے ابو موسیٰ‘ ہمارے رب کو ہمیں یاد ولاؤ (یا ابو موسیٰ ذكرنا ربنا عز وجل) حضرت عمر کے اس قول میں بھی ذکر کی قسم کے تکرار لفظی کے معنی میں نہیں ہے۔ یعنی حضرت عمر کی منشا یہ نہیں تھی کہ حضرت ابو موسیٰ ان کے پاس بیٹھ کر اللہ اللہ یا ربُّ ربِّ کر رہیں۔ اس فقرہ میں ذکر کا لفظ یاد کے معنی میں ہے۔ یعنی قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر ہمیں خدا کی یاد دلاؤ۔ لغت میں ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔ اس لفظ کا یہی مفہوم شریعت میں بھی ہے۔ ذکر سے مراد اللہ اور اس کی باتوں کی یاد ہے۔ یعنی آدمی کو خدا سے اتنا گہرا تعلق ہو جائے کہ وہ اس کے دل و دماغ میں سما جائے۔ وہ ہر موقع پر اس کو یاد آتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page