Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

معنى نہ کہ الفاظ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

معنى نہ کہ الفاظ عن ابی هريرة عن النبی صلى الله عليه وسلم انه قال : من جسل فى مجلس فكثر فيه لغطه فقال ان يقوم من مجلسه : سبحانك اللهم وبحمدک اشهد ان لا اله الا انت استغفرک و اتوب الیک ، الا عفر الله لہ ما کان فی مجلسه ذلک (ترمذی نسائی) حضرت ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی کسی مجلس میں بیٹھا۔ وہاں زور زور سے باتیں ہوئیں پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اس نے کہا، اے اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ تو اس مجلس میں جو باتیں ہو میں اللہ ان کے لئے اسے معاف کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان الفاظ کو زبان سے کہہ دینے کی وجہ سے اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ یہ معافی دراصل ادائیگی معنی کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ محض ادائیگی الفاظ کی بنا پر۔ یہ اس شخص کا حال بیان ہوا ہے جسکے دل میں اللہ کا ڈر موجود ہو۔ ایسا شخص جب کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اور وہاں کسی موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو گفتگو کے درمیان کبھی اس پر غفلت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ زور زور سے بولتا ہے وہ لوگوں سے غیر ضروری تکرار کرنے لگتا ہے۔ تا ہم ابھی مجلس ختم نہیں ہوتی کہ اس کو احساس ہو جاتا ہے کہ میں نے غلط کیا۔ میں نے بے فائدہ کلام کیا۔ اس وقت اس کے دل میں شرمندگی کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنے اندر ہی اندر اپنا احتساب کرنے لگتا ہے۔ اس سے پہلے وہ بندوں سے مخاطب تھا۔ اب وہ اپنے رب سے مخاطب ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے اس قسم کے کلمات نکل پڑتے ہیں جس کا ایک نمونہ اوپر کی حدیث میں نظر آتا ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ حقیقتِ دعا کے معنی کو بتا رہے ہیں نہ کہ محض دعا کے الفاظ کو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page