Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

کلام کی دو قسمیں

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

کلام کی دو قسمیں عن عبد الله بن عمر ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله . فان كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة للقلب . وان ابعد الناس من الله القلب القاسي . (رواه الترمذي) حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام کرنا دل کی قساوت کی وجہ سے ہوتا ہے اور جس دل میں قساوت ہو وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے دور ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ”ذکر‘‘ سے مراد معروف معنوں میں کلماتِ ذکر نہیں ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات کرتے ہوئے بار بار ذکر کے کلمات کو اپنی زبان سے دہراتے رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بات کو یادِ خداوندی کی کیفیت سے خالی نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کو یادِ خداوندی کی روح سے بھرا ہوا ہونا چاہئے۔ قساوت کے معنی سختی کے ہیں۔ ارض قاصیہ اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور جس میں کچھ نہ اُگے ۔ جب یہ لفظ دل کے لئے بولا جائے تو اس کا مطلب ہوگا سخت دل ، ایسا دل جو بے حس ہوگیا ہو۔ جن لوگوں کے دلوں میں سختی آجائے ، جن کے اندر حساسیت باقی نہ رہے ، ان کا کلام ایک قسم کی لسانی ورزش ہوتا ہے۔ ایسے کلام میں تواضع اور خشیت کی روح باقی نہیں رہتی۔ وہ بے حس مشین کی طرح بولتے ہیں نہ کہ اس انسان کی طرح جو خدا کی عظمت و جلال میں غرق ہو کر بول رہا ہو۔ اس کے برعکس جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو ، جس کو آخرت کی جواب دہی کے احساس نے گھلارکھا ہو وہ جب بولے گا تو اس کے لفظ لفظ میں اس کی قلبی کیفیت کا رنگ جھلک رہا ہوگا ۔ اس کا کلام ایک سنجیدہ انسان کا کلام ہوگا۔ اس کے لہجہ میں درمندی ہوگی۔ اس کی باتوں میں گہرائی ہوگی ۔ اس کی ہر بات میں خدا اور آخرت کی فکر شامل ہوگی۔ بے حس آدمی کے الفاظ انسانی ڈکشنری سے ماخوذ ہوتے ہیں، حساس آدمی کے الفاظ خدائی معرفت سے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کلام میں وہی فرق پیدا ہو جاتا ہے جو فرق زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page