Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسم اعظم کیا ہے

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سب سے زیادہ اونچا اسم اعظم “ ہے مگر یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت میں موجود نہیں۔ اسم اعظم حقیقہ حروف کے کسی مجموعہ کا نام نہیں بلکہ کیفیات کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یاد کرتا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لئے اس کے دل میں خیر خواہی کے سوا کوئی اور جذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لئے جو کلمات نکلتے ہیں ، اسی کا نام اسم اعظم ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’’ کہو کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو ، جس نام سے بھی پکارو گے تو اس کے سب نام اچھے ہیں‘‘، (بنی اسرائیل ) اللہ خالق بھی ہے اور مالک بھی وہ رحیم بھی ہے اور اکبر بھی۔ وہ سب کچھ ہے۔ جس برتر نام سے بھی آدمی اس کو پکارے وہ اس کے لئے جائز ہوگا۔ البتہ پکارنے والے کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ کبھی اس کے لئے ’’اسم اعظم‘‘ بن جاتا ہے۔ یہ پکارنے والے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ اللہ کو اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے پکارنا کبھی سادہ اور عام حالت میں ہوتا ہے اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ خدا کا نام لیتے ہوئے آدمی کی شخصیت پھٹ پڑتی ہے۔ خدا کا نام لینا اس کی روح میں برپا ہونے والے طوفان کی آواز ہوتا ہے۔ اس طرح دل کے بھونچال کے ساتھ خدا کا نام لینا عام حالت میں اس کا نام لینے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔ بندہ جب اللہ کی عظمتوں کے احساس سے سرشار ہو اور اس کی سرشاری زبان پر لفظ کی صورت میں ڈھل جائے تو یہی اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ یاد کرنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page