اسم اعظم کیا ہے
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اسم اعظم کیا ہے ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ اسم اعظم کیا ہے۔ بزرگ نے فرمایا: جب آدمی کا پیٹ غذا سے خالی ہو اور اس کا دل کینہ سے خالی ہو تو وہ اللہ کے ناموں میں سے ہے۔ اس نام سے ہی اپنے رب کو پکارے کا وہی اسم ہو گا (مدرسه الاولیاء) گویا اسم اعظم کا تعلق ”اسم“ سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔ اسم اعظم وہ ہے جو اعلیٰ کیفیات کے ساتھ زبان سے نکلے۔ کیفیات کی عظمت کسی اسم کو اسمِ اعظم بناتی ہے نہ کہ حروفِ تہجی کی عظمت ۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میں کینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لئے ہوئے نہیں ہے۔ جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھا لیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیت میں نہایا ہوا ہوتا ہے۔ ان کیفیات کے ساتھ جو بہتر نام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لئے اسم اعظم ہے۔ کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پر اسرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کرلے اور زبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادایگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ دنیا میں آل واولا دمیں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ ان کے نزدیک ان بابرکت کلمات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader